غزہ وحماس

غزہ سے داغے میزائل تباہ کرنے کے لیے ’’منجنیق داؤد‘‘ نامی میزائل شکن سسٹم کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو اسرائیلی فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے‘رائیٹرز’ کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے آج بدھ کے روز غزہ سے راکٹ داغنے کے دوران پہلی بار راکٹوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضا میں ناکارہ بنانے کی خاطر ’’منجنیق داؤد‘‘ نامی میزائل شکن سسٹم کا استعمال کیا ہے۔

’’منجنیق داؤد‘‘ ایک ایسا نظام ہے جو 100 سے 200 کلومیٹر دور سے داغے جانے والے میزائلوں کو مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ اسرائیل کے میزائل شکن سسٹم کا حصہ ہے جس میں پہلے سے ہی کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے آئرن ڈوم سسٹم اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو روکنے کےلیے ایرو-2 اور ایرو-3 سسٹم شامل ہیں۔

اخبار "یدیعوت احرونوت" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’منجنیق داؤد‘‘ سسٹم نے غزہ سے داغے ایک راکٹ کو مار گرایا جو تل ابیب میں ایک ہدف پر داغا گیا تھا۔

درایں اثناء ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘ نے اطلاع دی ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے تیار کردہ میزائل شکن سسٹم کو کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے۔

ڈیوڈز سلنگ کی بیٹریاں

اخبار نے اشارہ کیا کہ 2018ء میں سسٹم نے شام سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے دو میزائل داغے، لیکن وہ شام کی حدود میں گرے۔

عبرانی اخبار کے مطابق’’منجنیق داؤد‘‘ سسٹم کے ایک میزائل کی قیمت ایک ملین ڈالر ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سابقہ بیانات کے مطابق ’’منجنیق داؤد‘‘ ایک مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سسٹم ہے جو 100 سے 200 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں، کم بلندی پر اڑنے والے ہوائی جہاز اور گائیڈڈ میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس نظام کو اپریل 2017 میں فعال کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں