غزہ پر جارحیت کے تناظر میں بائیڈن انتظامیہ کا خم ٹھونک کر اسرائیلی حمایت کا اعلان

اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری، عام شہریوں سمیت 20 فلسطینی مارے گئے، فلسطینی دھڑوں نے اسرائیل پر سینکڑوں راکٹ داغے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اعلیٰ امریکی حکام نے بدھ کے روز اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے بات چیت کی تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تشدد کے تازہ ترین دور کے درمیان اسرائیل کی سلامتی کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی اٹل حمایت کی تصدیق کی جا سکے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب ہینیگبی سے بات چیت کی ہے جس میں غزہ میں جاری تنازع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جیک سلیوان نے اسرائیل کی سلامتی کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی اٹل حمایت کی اور اپنے لوگوں کو اندھا دھند راکٹ حملوں سے بچانے کے اسرائیل کےحق کی تصدیق کردی۔

سلیوان نے جنگ بندی کے لیے جاری علاقائی کوششوں کا بھی ذکر کیا تاہم انہوں نے کشیدگی کو کم کرنے اور مزید جانی نقصان کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ فلسطینی دھڑوں نے غزہ کی پٹی سے سینکڑوں راکٹ داغے جب اسرائیل نے اپنی فضائی بمباری جاری رکھی جس میں عسکریت پسندوں اور متعدد شہریوں سمیت کم از کم 20 فلسطینی مارے گئے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے عام شہریوں کے "ناقابل قبول" قتل پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ طاقت کے مناسب استعمال، فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو بچانے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیں۔

دوسری طرف پینٹاگان نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب یوو گیلنٹ سے بات کی۔

پینٹاگان کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نے بتایا کہ آسٹن نے دہشت گرد گروپوں کی طرف سے اندھا دھند راکٹ حملوں سے اپنے لوگوں کے دفاع کے اسرائیل کے حق کے لیے اپنی مسلسل حمایت پر زور دیا۔

گیلنٹ نے مبینہ طور پر آسٹن کو غزہ میں اسرائیلی حملوں کا جائزہ فراہم کیا۔ دونوں عہدیداروں نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں بھی رابطے میں رہیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں