فلم "سلیق"کا مقصد ثقافتی بقائے باہمی کا پیغام عام کرنا ہے: ہدایت کار افنان باویان

اینیمیشن کی دنیا میں ایک انوکھا تجربہ، سعودی ہدایت کار افنان باویان کی قیادت میں تیار کردہ فلم سلیق میں بقائے باہمی کو دکھایا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں تیار ہونے والی اینی میٹڈ شارٹ فلم "سلیق" کی ہدایت کار افنان باویان نے کہا ہے کہ اس فلم کا مقصد معاشرے میں ثقافتی بقائے باہمی کے کلچر کو عام کرنا ہے۔

سعودی عرب کے فلم فیسٹیول کے نویں سیشن میں یہ فلم سر فہرست رہی۔ اس فیسٹیول کا اہتمام سنیما سوسائٹی اور کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایونٹ کو وزارت ثقافت میں فلم اتھارٹی کا بھی حاصل رہا۔ اس فلم کو فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی فلم ہے جس میں ایک دوسرے کے لیے بقائے باہمی اور ثقافتی فراخدلی کا پیغام دیا گیا ہے۔

فلم کی کہانی میں اس کی ہیروئین کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے اور وہ اپنی پڑوسی خواتین سے بات کرنے پر مجبور ہے جو عربی زبان نہیں بولتیں، اس کے علاوہ یہ فلم کھانوں اور کھانا پکانے کے تصور کو بطور زبان اور تہذیبوں کے درمیان انضمام کا ذریعہ پیش کرتی ہے۔ .

‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں ہدایت کار افنان باویان نے اشارہ کیا کہ ان کی پہلی فلم "سلیق" کو "اسٹاپ موشن اینیمیشن" کے معیار کی سعودی فلم فیسٹیول کے افتتاحی موقع پر دکھانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہدایت کاری کی دنیا میں میری شروعات فلم ’’سلیق‘‘ سے ہوئی جو فلمی ہدایت کاری کی دنیا میں چار سال کے تجربے اور 7 طویل سعودی فلموں میں کام کرنے کے بعد لکھی۔ ہدایت کاری کے اعتبار سے یہ ان کی پہلی فلم ہے۔اس سے قبل وہ اسکرپٹ سپروائزر، ایک طویل فلم میں بطور اسکرپٹ رائٹر اور ایک کلچر سپروائزر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔ انہوں نے العلا میں شوٹ کی گئی فلم "قندھار" میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کیا تھا۔

فلم سلیق سے ایک منظر

فلم کی کہانی

افنان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فلم "سلیق" جدہ شہر سے تعلق رکھنے والی ھاجر نامی ایک بوڑھی عورت کی کہانی کے ارد گرد گھومتی ہے جواپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے۔ اس کےجواں بیٹے شادی ہونے، ملازمت یا پڑھائی کی وجہ سے اس سے دور ہیں۔

اس کا بڑا بیٹا اور پوتی اس سے ملنے آنے کی خبر دیتے ہیں تو خاتون اپنی پسندیدہ سلیق ڈش تیار کرتی ہیں جو ان کی پوتی کی بھی پسندیدہ ڈش ہوتی ہے، لیکن اچانک اس کے بیٹے کی طرف سے فون کرکے اسے بتایا جاتا ہے کہ وہ کسی ہنگامی صورت حال کی وجہ سے آنے سے معذرت کرتا ہے۔ اس پر خاتون اداس ہوجاتی ہیں۔

بیٹے سے فون پر گفتگو کے دوران کچھ پرندے ہاجر کے باورچی خانے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ پرندے چولہے پر موجود سلیق کی ڈش کو گرادیتےہیں اور چاول فرش پر بکھر جاتےہیں۔ ابلے ہوئے چاول سیلاب میں بدل جاتے ہیں۔ جس سے اس کے گھر کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ھاجرجس محلے میں رہتی ہیں اس کے مقامی باشندے وہاں سے نقل مکانی کرگئے ہوتے ہیں جبکہ اس کے اڑوس پڑوس میں اجنبی لوگ آباد ہوجاتےہیں۔ ان کی اپنی زبان ہوتی ہے اور ھاجر ان کی زبانیں نہیں سمجھ سکتی۔ تاہم اسے ان کے ساتھ میل جول رکھنا پڑتا ہے اور ان کے ساتھ ثقافتی ہم آہنگی پیدا کرنا پڑتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں