تمام یمنی فریق جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں سعودی عرب کے سفیر نے کہا ہے کہ تمام یمنی قوتیں جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

خبر رساں ادارے‘اے ایف پی’ کے مطابق یمن میں سعودی سفیر محمد آل جابر نے ایک بیان میں کہا کہ تمام یمنی فریق لڑائی کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہے کہ براہ راست مذاکرات کب ہوں گے کیونکہ حکومت اور حوثی فی الحال ایک ساتھ بیٹھنے سے گریزاں ہیں، اس لیے یہ کہنا ناممکن ہے کہ یمن میں جنگ کے اصل فریق مذاکرات پر کب راضی ہوتے ہیں۔

امن کی تلاش

گذشتہ ماہ صنعاء میں حوثی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد اپنے پہلے بیانات میں انہوں نے کہا کہ "ہر کوئی سنجیدہ ہے، مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی امن کی تلاش میں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا "کچھ بھی واضح نہیں ہے، لیکن میں پر امید ہوں اور ہم امید کرتے ہیں کہ انشاء اللہ، یمنی جلد از جلد کوئی راستہ نکال لیں گے۔"

یمن میں سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے تمام یمنیوں فریقوں کو میز پر بیٹھنے اور تمام مسائل پر بات چیت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔"

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "آخر میں معاملہ یمنیوں سے متعلق ہے۔ دونوں فریق موجودہ وقت میں ایک ساتھ بیٹھنے سے انکاری ہیں۔"

قبل ازیں یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا تھا کہ سعودی کردار آئینی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان ثالثی کا کردار ہے۔"

یہ بات قابل ذکر ہے کہ الجابر نے یمنی گروپوں کو قریب لانے کے لیے مملکت کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر گذشتہ اپریل کے آخر میں صنعاء کا دورہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ اور یمن کے لیے اس کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ یمنی فریقوں پر برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے براہ راست مذاکرات کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

گرنڈن برگ نے حالیہ دنوں میں یمنی تنازع کے حل کے لیے رفتار کو برقرار رکھنے اور تمام فریقوں کی طرف سے اب تک حاصل کی گئی پیشرفت کو عملی شکل دینے پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں