اسلامی جہاد غزہ

غزہ سے فلسطینیوں کے راکٹ حملے میں اسرائیلی وزیر کی گاڑی تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

العربیہ کے نامہ نگار نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں کا داغا گیا ایک راکٹ اسرائیلی خاتون وزیر اورٹ سٹروک کی گاڑی سے 50 میٹر کے فاصلے پر سدیروت میں گرا ہے۔ راکٹ حملےمیں گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

دریں اثنا اسرائیلی ریڈیو جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ تل ابیب کے قریب رحوفوت میں ایک خاتون اس وقت ہلاک ہو گئی جب ایک فلسطینی راکٹ ایک عمارت سے ٹکرا گیا۔

قبل ازیں اسرائیلی ٹی وی (i.24) نے اطلاع دی تھی کہ رحوفوت شہر پر راکٹ حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ طبی ٹیموں نے ایک 65 سالہ خاتون کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ راکٹ حلے میں اس کے سرمیں چوٹ آئی تھی۔

تاہم، "کے اے این" ریڈیو نے کہا کہ راکٹ حملے میں سات اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں اور دو ابھی تک اس عمارت کے ملبے کے نیچے ہیں جو راکٹ کا نشانہ بنی تھی۔

دریں اثنا جمعرات کو غزہ کی پٹی پر فضائی حملے جاری رہے، جہاں سے اسلامی جہاد کے پانچویں رہ نما کو نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا۔ دوسری طرف فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

غزہ کی پٹی کی وزارت صحت کے مطابق جمعرات کو غزہ میں فضائی حملوں میں چھ فلسطینی مارے گئے، جن میں اسلامی جہاد کے دو رہ نما بھی شامل ہیں۔

اس طرح اگست 2022ء کے بعد منگل کو شروع ہونے والی کشیدگی میں ہلاکتوں کی تعداد 28 تک پہنچ گئی، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

دوکمانڈروں کا قتل

جمعرات کی سہ پہر اسرائیلی فوج نے داخلی سلامتی ایجنسی (شن بیٹ) کے ساتھ مشترکہ آپریشن کا اعلان کیا۔ اس آپریشن میں اسلامی جہاد کے کمانڈر "احمد ابو دقّہ کو نشانہ بنایا۔ احمد ابو دقہ کو اسرائیل پر راکٹ حملوں کا منصوبہ ساز قرار دیا جاتا ہے۔

بیان کے مطابق ابو دقہ نے "اسرائیل کی طرف راکٹ داغنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور وہ غزہ کی پٹی میں اسلامی جہاد علی غالی تنظیم کی میزائل فورس کے نائب کمانڈر تھے۔ علی غالی کو کل جمعرات کو ایک میزائل حملے میں جان سے مار دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں