ٹانگوں کے بغیر بھی ریس جیتنے والا سعودی نوجوان اب چائے کیوں فروخت کر رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وہ بغیر ٹانگوں کے زندگی میں آیا لیکن کھیلوں سے اس کی محبت نے اسے سعودی عرب اور بیرون ملک باہمت لوگوں کی دوڑ میں حصہ لینے سے نہیں روکا۔ اس نے مصنوعی اعضا لگانے کے بعد زندگی گزارنا شروع کی اور بہت سے تمغے جیت لیے۔ اس طرح اس نے اپنے بختہ عزم کی بدولت کئی کامیابیاں سمیٹ لی ہیں۔

35 سالہ حسین الحویکم کا کھیلوں سے لگاؤ دو سال کی عمر سے شروع ہوگیا تھا۔ جب وہ تھوڑا بڑا ہوا تو اس نے مستطیل سبز رنگ میں صحت مند لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مصنوعی اعضا کے ساتھ پیشہ ورانہ طور پر فٹ بال کھیلنا شروع کردیا۔ وہ والی بال، دوڑ اور دیگر کھیلوں میں بھی حصہ لیتا رہا۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں حسین الحویکم نے کھیلوں سے اپنی محبت کو خدا کی عطا کردہ نعمت قرار دیا اور کہا کہ بچپن میں میں اپنے محلے کے سٹیڈیم کو دیکھتا رہتا تھا۔ کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے دیکھتا تھا تو خود بھی وہ تجربات کرنے کا سوچتا تھا۔

اس وقت اپنے آہنی عزم کی بدولت اس چھوٹے سے بچے نے طاقتور ترین کھلاڑیوں کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی محنت کی بدولت وہ والی بال میں معذور افراد کی سعودی قومی ٹیم میں کھیلنے کی منزل تک پہنچ گیا۔

پھر اس نے کئی مقامی فٹ بال ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔ اس نے الاحساء میں 5 کلومیٹر کی ریس، بحرین کی بادشاہی میں 10 کلومیٹر کی ریس اور کویت اور قطیف کے علاقے میں 5 کلومیٹر کی ریس میں بھی حصہ لیا۔

حسین الحویکم
حسین الحویکم

حالات زندگی اور معاشی وسائل اس نوجوان کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے ۔ اپنی معذوری کے باوجود حسین نے کئی تمغے جیت لیے۔ لیکن ساتھ ہی وہ معاشی مسائل میں بھی گھرا ہوا ہے۔

اسے کس چیز نے مجبور کیا کہ وہ الاحساء کے کھیتوں کے درمیان "الشہرین قبرستان کے سامنے" مشہور سڑک کے کنارے بیٹھ کر چائے اور دیگر لوازمات فروخت کرتا ہے۔ وہ اپنی ہاتھ سے چائے اور دیگر اشیا بنا کر راہگیروں کو فروخت کرتا ہے۔ اس وقت وہ ایسی نوکری کی تلاش میں جس سے وہ پیسے کما کر اپنے اور اپنے خاندان کے لیے سہولیات حاصل کرسکے۔

حسین الحویکم کی تصاویر ان دنوں میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد تصاویر دیکھ کر حسین الحویکم کے پاس گئی اور اس سے اظہار محبت کیا اور اسے اس کی جدوجہد پر داد دی۔
ٹویٹر پر بھی بہت سے سعودیوں نے الحویکم کی تعریف کی جس نے استقامت، عزم اور چیلنجوں کا سامنا کرنے کی مثال قائم کردی ہے۔

بعض افراد نے لوگوں سے حسین الحویکم کی مدد کی اپیل بھی کی اور کہا کہ اس شخص کو اس وقت کسی سہارے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں