’اسرائیلی حملے سےبچنے کی کوشش ہی اسلامی جہاد کے کمانڈر کی موت کا باعث بنی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ منگل سے اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ اس جنگ کے دوران اسلامی جہاد کے عسکری ونگ [القدس بریگیڈ] کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کل جمعرات کو اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے خان یونس شہر میں ایک فلیٹ پر بمباری کی جس میں اسلامی جہاد کے کمانڈر اور تنظیم کے میزائل یونٹ کےنائب صدر احمد ابو دقہ جاں بحق ہوگئے۔ ابو دقہ کا شمار اسرائیل کو مطلوب فلسطینی عسکری کمانڈروں میں ہوتا تھا اور وہ ماضی میں بھی اسرائیلی فوج پر متعدد حملے کرچکے تھے۔

احمد ابو دقہ کی موت کے حوالے سے اسرائیلی فوج کی طرف سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ فلسطینی عسکری قیادت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنی نقل وحرکت میں بہت محتاط ہوتی ہے اور کمانڈر اکثر اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں۔

تاہم اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ابو دقہ کی جاسوسی کی جا رہی تھی اور ان کی نقل وحرکت پر نظر تھی۔ ان کا ٹھکانہ بدلنا ہی ان کی موت کا باعث بنا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کی بات چیت اور فریقین کے ایک دوسرے پر حملے بھی جاری ہیں۔

فوج اور شن بیٹ کا مشترکہ آپریشن

فوج نے انکشاف کیا کہ اسلامی جہاد میں میزائل یونٹ کے نائب سربراہ احمد ابو دقہ کے فرار کے راستے کی فوج اور شن بیٹ کی جانب سے مشترکہ طورپر نگرانی کی گئی۔

فوج کا کہنا ہے کہ ابو دقہ کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح کی متعدد فرضی کارروائیاں کی گئیں تاکہ موقع ملتے ہی کمانڈر کو کامیابی سے نشانہ بنایا جا سکے۔

فوج کا کہنا ہے کہ ابو دقّہ کو بدھ کی رات ایک ہوائی جہاز کے ذریعے دیکھا گیا تھا جب وہ ایک اپارٹمنٹ کی طرف چھپنے جا رہے تھے۔ ایسے لگتا ہےکہ کمانڈر ابو دقہ کو یقین تھا کہ اسرائیلی فوج‘دفاعی تیر’ آپریشن کے دوران ان کا تعاقب کررہی ہے اور انہیں دیگر عسکری رہ نماؤں کی طرح نشانہ بنانا چاہتی ہے۔

اسلامی جہاد کا ابو دقہ کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں تازہ کشیدگی کو کنٹرول کرنے کے لیے مصر نے اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان ثالثی کی کوششیں شروع کی ہیں۔ گذشتہ شب فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں جس کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کردیے تھے۔

اسلامی جہاد اپنے سینیر عسکری کمانڈروں کی ہلاکت پر سخت غصے میں ہے اوراس نے ابو دقہ اور دیگر عسکریت پسندوں کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس کے قصبے بنی سہیلہ میں جمعرات کو ایک اسرائیلی حملے میں اس کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ابو دقہ ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہوگئے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ابو دقہ القدس بریگیڈز میں میزائل یونٹ کے کمانڈر علی غالی کے نائب تھے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے انکشاف کیا کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران کیے جانے والےٹارگٹ کلنگ آپریشن میں یہ تازہ ترین ہدف شن بیٹ کے تعاون سے کیا گیا۔ ابو دقہ کو ایک ایسے وقت میں قتل کیا جب قابض اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کے درمیان مصر نے جنگ بندی کی کوششیں شروع کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں