اسلامی جہاد کے پاس 6 ہزار راکٹ موجود ہیں: اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاحی ہنگبی نے آج ہفتے کودعویٰ کہا کہ ہے کہا ہے کہ اسلامی جہاد تحریک کے پاس 6000 راکٹ ہیں اور حماس کے پاس راکٹوں کی تعداد اس سے چار گنا زیادہ ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائیٹرز’ کے مطابق ہنگبی نے کہا کہ "اسرائیل اس وقت غزہ میں بندوق برداروں کو ختم کرنے اور جنگ بندی تک پہنچنے پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔"

‘العربیہ’ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ کے مطابق انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلامی جہاد تحریک کی جانب سے راکٹ فائر روکنے کے اعلان سے پہلے کوئی جنگ بندی نہیں ہوگی۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مصر کے نئے مذاکرات کے آغاز کی توقعات کے باوجود غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری جاری رہی۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر نئے حملے شروع کیے جب کہ غزہ کی پٹی اور عسقلان کے اطراف کی بستیوں پر متعدد راکٹ فائر کیے گئے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ عسقلان اور غزہ کی پٹی کے آس پاس کی بستیوں میں سائرن بجائے گئے۔

دریں اثناء اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں نابلس کے مشرق میں واقع بلاطہ پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بول دیا اور وہاں پر پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

فلسطینی ہلال احمر نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج نے کیمپ میں موجود دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا، جب کہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

کل شام اسرائیلی افواج اور اسلامی جہاد تحریک کے درمیان مزید کشیدگی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کی فوجی کونسل کے رکن اور تنظیم کے آپریشنز یونٹ کے ذمہ دار ایاد العبد الحسنی کی ہلاکت کے بعد دونوں فریقین میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج اب تک القدس بریگیڈ کے چھ کمانڈروں کو ہلاک کرچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں