غزہ پر پانچویں روز بھی اسرائیل کی بمباری، الخلیل میں بھی تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مصری ثالثی میں مذاکرات ناکام ہوگئے اور اسرائیل نے پانچویں روز بھی غزہ کی پٹی پر بمباری جاری رکھی۔ پٹی کے گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آج بروز ہفتہ ’’العربیہ‘‘ اور ’’الحدث‘‘ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے پٹی پر کئی نئے حملے کیے ہیں۔ دوسری طرف غزہ کی پٹی سے غزہ سٹی اور عسقلان کے اطراف کے علاقوں پر راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ عسقلان اور اور پٹی کے آس پاس کے علاقوں کی آبادیوں میں سائرن بجائے گئے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں نابلس کے مشرق میں واقع بلتا پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بول دیا اور الخلیل میں جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔

جمعہ کو اسرائیل نے بمباری کرکے تحریک اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے رہنما ایاد الحسنی کو بھی جاں بحق کردیا تھا۔ اس طرح اس طرح منگل کو شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اب تک اسلامی جہاد کے 6 رہنماؤں کو جاں بحق کیا جا چکا ہے۔

دوسری طرف مصر اب بھی اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثی کر رہا اور جنگ بندی تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگست 2022 کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یہ سب سے خطرناک کشیدگی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے عالمی مطالبات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

جمعہ کی شام مصر نے جنگ بندی کا نیا فارمولا پیش کردیا جس کا جواب اسلامی جہاد نے دیا لیکن ابھی تک اسرائیل نے اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا ہے۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس تجویز میں دونوں فریقوں کے درمیان باہمی حملے بند کرنے اور شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کا عہد شامل کیا گیا ہے۔ اسلامی جہاد کے ذرائع نے اسرائیلی فریق پر مصری کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

خیال رہے دونوں فریقوں کے درمیان گزشتہ منگل سے شروع ہونے والی اس کشیدگی میں اب تک ایک اسرائیلی ہلاک ہوا اور 6 بچوں سمیت 33 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں