بڑے انسانی نقصان کا انتباہ، غزہ میں واحد پاور سٹیشن بندش کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں ہفتہ کو مسلسل پانچویں روز بھی اسرائیلی جارحیت جاری رہی۔ اس دوران پٹی میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ پٹی میں بجلی پیدا کرنے والا واحد سٹیشن کام کرنا بند کر دے گا۔ بندش کی وجہ ایندھن کی کمی ہے۔ ایندھن کی ترسیل اسرائیلی آپریشن کے تناظر میں سرحدی گزر گاہوں کی بندش کی وجہ سے رک گئی ہے۔ "عرب ورلڈ نیوز ایجنسی" کے مطابق ترجمان محمد ثابت نے بتایا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ سٹیشن چند گھنٹوں یا بہت کم دنوں میں کام کرنا چھوڑ دے، اگر سٹیشن نے کام کرنا بند کردیا تو ہمیں سال 2021 میں ہونے والی صہیونی بمباری جیسا ڈراؤنا خواب ستاتا ہے۔ مئی 2021 میں سٹیشن مکمل طور پر بند ہوگیا تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ پلانٹ اس وقت اپنی تین میں سے دو ٹربائنز کے ساتھ کام کر رہا ہے اور صرف 45 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ غزہ میں توانائی اور قدرتی وسائل کی اتھارٹی نے گزرگاہوں کی بندش کی وجہ سے منگل سے غزہ کو ایندھن کی سپلائی مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے ایک انسانی اور ماحولیاتی تباہی سے خبردار کردیا۔

ترجمان نے بتایا کہ بجلی کی بندش سے صحت کے شعبہ میں خدمات بھی بند ہوجائیں گی اور ایک بڑی انسانی تباہی ہوجائے گی۔ اسی طرح غزہ کی پٹی میں پانی، بجلی، سیوریج ٹریٹمنٹ اور دیگر نظام مفلوج ہوجائیں گے اور ایک بڑا المیہ سامنے آ جائے گا۔

تل ابیب نے غزہ کی پٹی کے ساتھ کریم شالوم کی واحد تجارتی کراسنگ کو بھی بند کیا ہوا ہے۔ غزہ کی پٹی میں بسنے والے 2.3 ملین افراد غربت اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ 2007 میں حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ 2008 سے غزہ کے فلسطینی دھڑوں کی اسرائیل سے متعدد جنگیں ہو چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں