غزہ پر اسرائیل کی شدید بمباری، طیارہ شکن راکٹوں سے جوابی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے ہفتہ کے روز بھی غزہ کی پٹی پر بمباری جاری رکھی۔ اسرائیلی فوج نے تحریک اسلامی جہاد کے ہیڈ کوارٹرز پر شدید حملہ کیا۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ہفتہ کے روز أسدود، عسقلان اور مغربی نقب پر میزائل داغے۔

طیارہ شکن راکٹ

ہمارے نمائندے نے یہ بھی بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی سے ایک راکٹ اسرائیلی آبادی اشکول پر بھی گرا۔ راکٹ سے آبادی میں مادی نقصان ہوا۔ غزہ کی پٹی سے کئی طیارہ شکن راکٹ فائر کیے گئے۔

اسرائیلی ایمرجنسی سروس نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ جنوبی اسرائیل پر گرنے والے راکٹوں سے 3 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ سروس نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔

واضح رہے ہفتہ کے روز غزہ کی پٹی میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی گزرگاہوں کی معطلی کی روشنی میں بجلی پیدا کرنے والے سٹیشن کو چلانے کے لیے درکار ایندھن کی کمی ہوگئی ہے اور کسی بھی وقت بجلی پیدا کرنے والا غزہ کی پٹی کا واحد سٹیشن کام کرنا بند کر سکتا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے ترجمان محمد ثابت نے کہا سٹیشن چند گھنٹوں یا انتہائی کم دنوں میں مکمل طور پر بند ہو سکتا ہے۔

مغربی کنارے میں 2 فلسطینی جاں بحق

دوسری طرف شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں دو فلسطینی نوجوانوں کو اسرائیلی فوجیوں نے نابلس کے بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں گولی مار کر جاں بحق کردیا۔ اے ایف پی کے مطابق فوج نے ہفتے کی صبح ایک آپریشن کیا۔

32 سالہ نوجوان سائد جہاد شاکر مشہ اور 19 سالہ نوجوان وسیم عدنان یوسف الاعراج کو نابلس میں بلاطہ کیمپ میں براہ راست فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی قیادت میں تحریک فتح نے کہا ہے کہ ان دونوں نوجوانوں کا تعلق الاقصیٰ شہداء بریگیڈ سے ہے۔ یہ بریگیڈ تحریک فتح کا عسکری ونگ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں