العربیہ ایکسکلوسیو

امریکہ نے کن شرائط پر صدام حسین کو عام معافی کی پیشکش کی تھی، وکیل نے بتا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صدام حسین کو پھانسی دیے ہوئے 20 سال گزر چکے ہیں تاہم اب بھی ان کی گرفتاری اور مقدمہ کے حوالے سے بہت کچھ پردہ راز میں ہے۔

صدام حسین کے دفاع کے سابق سربراہ ڈاکٹر خلیل الدلیمی نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح امریکہ نے سابق عراقی صدر کو گرفتار کرنے کے اصرار کے باوجود کچھ شرائط پر انہیں عام عافی کی پیشکش کی تھی۔

خلیل الدلیمی نے ‘‘العربیہ’’ پر سیاسی یادداشت کے پروگرام کے ایک حصے کے اندر وضاحت کی کہ امریکیوں نے صدام کے ساتھ بات چیت کی اور تجویز پیش کی کہ وہ اپنی طرف سے کسی کو عراقی جمہوریہ کا نائب صدر مقرر کرنے کے لیے نامزد کریں لیکن اس کے پاس بڑے اختیارات نہ ہوں۔ ایسا کرنے پر صدام حسین کو معافی کی پیش کش کی گئی تھی۔

انہوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ وہ فلوجہ میں امریکی افواج کے خلاف لڑنا چھوڑ دیں۔

انہوں نے صدام حسین کو رہائی کے بعد ملک چھوڑنے کے لیے کہا، لیکن صدام نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، الدلیمی نے تصدیق کی کہ صدام حسین نے خود یہ شرائط مجھے بتائی تھیں۔

الدلیمی نے اپنی صدام حسین سے پہلی ملاقات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ مجھے شروع سے ہی شک تھا کہ ان سے ملنے والا شخص صدام حسین کے مشابہ ہوگا حقیقی صدام حسین نہیں ہوگا کیونکہ بتایا گیا تھا کہ سابق صدر کی ذاتی حفاظت کے لیے 40 سے زیادہ اسی طرح کے لوگوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن ان سے بات کرنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ وہ حقیقی صدام حسین تھے۔

انہوں نے کہا پہلے تو میں نے سوچا کہ مجھے مخاطب کرنے والا صدام سے ملتا جلتا ہے۔ گرفتاری اور نفسیاتی اور جسمانی اذیت کی وجہ سے ان کی حالت بدلی ہوئی تھی ۔ بعد میں کچھ واقعات سنانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ صدام حسین ہی ہیں۔

یاد رہے امریکی صدر جارج بش نے 20 مارچ 2003 کو "آپریشن عراقی فریڈم" کے نام سے ایک آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور 150 ہزار امریکی فوجیوں اور 40 ہزار برطانوی فوجیوں کے ساتھ عراق پر حملہ کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں