لیبیا میں مردوں کو بغیر سفر کی ممانعت پر خواتین میں غم و غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا میں گزشتہ دنوں میں خواتین کی نقل و حرکت پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس پر بہت سی خواتین میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ طرابلس میں قومی اتحاد کی حکومت کی داخلی سلامتی ایجنسی نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے کہ وہ خواتین جو بغیر کسی کے ساتھ کے بیرون ملک سفر کرنا چاہتی ہیں، وہ اکیلے سفر کی وجوہات بتانے کی پابند ہوں۔

‘‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’’ کو ایک بیان میں انسانی حقوق اور میڈیا کی کارکن منّہ القاضی نے کہا کہ اس نئے فیصلے سے خواتین کی نقل و حرکت کی آزادی کو محدود کرنے کا خطرہ ہے ۔ کسی بھی ملک میں سفر کرنے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی قانون کے ذریعے ان کے اس حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ یہ لیبیا کی خواتین کو درپیش اضافی رکاوٹوں اور پابندیوں کا واضح ثبوت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے ساتھ معاشرے میں امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

روایات اور عقائد

واضح رہے لیبیا کے قانون کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے خطے کے جدید ترین قوانین میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ قانون جنسی مساوات اور خواتین کو کام کرنے اور نقل و حرکت کا حق دیتا ہے۔ یہ قانون امتیازی سلوک کی ممانعت کرتا ہے۔ اسی طرح اجرت اور ملازمت کے دیگر حقوق کے حوالے سے کسی بھی جنسی امتیاز کو منع کرتا ہے۔

تاہم القاضی نے وضاحت کی کہ لیبیا میں معاشرتی نقطہ نظر اور عقائد قانون پر غالب ہیں اور عورتوں کے مخالف ہیں اور انہیں پیچھے کی طرف لے جارہے ہیں۔ یہ روایات اور عقائد خاتون کو ایک ایسا وجود بنا دیتے ہیں جو ایک بند گھر میں ہی حرکت کرتا ہے اور اسے مرد نے گھر کی ذمہ داروں کے لیے رکھا ہوا ہے۔

لیبیا میں ایک تقریب سے خواتین کی تصویر
لیبیا میں ایک تقریب سے خواتین کی تصویر

منّہ القاضی نے مزید کہا کہ ملک کے بحران سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ خواتین کی مصیبت ان کی نقل و حرکت کی آزادی کو محدود کرنے کی حدوں تک نہیں رکتی بلکہ عوامی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گرفتاری اور اغوا

حالیہ برسوں میں آزادی اظہار رائے یا لباس کی آزادی کی وجہ سے جو لیبیا کے قوانین کے تحت محفوظ ہیں، یا سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر سرگرمیوں کی وجہ سے کئی خواتین کو گرفتار کرنے، اغوا کرنے اور یہاں تک کہ قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہفتہ کے روز انسانی حقوق کی 12 تنظیموں نے خاتون کے اکیلے بیرون ملک سفر کی راہ میں رکاوٹ کے اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے امتیازی اقدام قرار دیا ہے۔ بیان پر دستخط کرنے والوں نے اس بات کی بھی توثیق کی کہ اس طریقہ کار میں خواتین کی نقل و حرکت کی آزادی کے آئینی طور پر ضمانت شدہ حق کی ناقابل قبول خلاف ورزی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں