75 ویں یوم نکبہ کی یاد میں فلسطینیوں کی تقریبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کل پیر15 مئی کو رام اللہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے نکبہ کی 75 ویں برسی منائی۔ اندرون اور بیرون ملک کے لاکھوں فلسطینی ہر سال 15 مئی کو ’یوم نکبہ‘ یعنی قیامت کبریٰ کے طور پرمناتے ہیں۔

پندرہ مئی سنہ 1948ء کو فلسطین کی تاریخی سرزمین پریہودی بلوائیوں نے اپنی نام نہاد ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ صہیونی ریاست ہزاروں فلسطینیوں کے قتل عام اور لاتعداد فلسطینی قصبوں اور بستیوں کی مسماری کے بعد عمل میں لایا گیا۔

اس دن کی مناسبت سے ہرسال فلسطینی ’یوم نکبہ‘ مناتے ہیں اور اس موقعے پر ریلیاں اور جلوس منعقد کیے جاتے ہیں۔ فلسطینی اپنی کھوئی سرزمین میں واپسی کے عزم کو تازہ کرتے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیل اس دن کو ریاست کے یوم تاسیس کے طور پر مناتا ہے۔ گذشتہ اپریل کی 26 تاریخ کو اسرائیل نے عبرانی کیلنڈر کے مطابق ریاست کے قیام کی 75 ویں برسی منائی۔

کل سوموار کو مقبوضہ مغربی کنارے سے آئے ہوئے ہزاروں مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور سیاہ بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر عربی اور انگریزی میں "واپسی" لکھا ہوا تھا اور ان پر ایک پرانی چابی بنائی گئی تھی۔

ان میں سے بہت سے لوگوں نے سیاہ واسکٹ پہنے ہوئے تھے جن پر "نکبہ کہانی کی اصل روایت اور واپسی حق ہے۔" مظاہرے کا اختتام رام اللہ شہر کے مرکز میں ایک مرکزی جلوس کی شکل مں ہوا۔ اس کے قریب ہی فلسطینی اتھارٹی کا ہیڈ کواٹر واقع ہے۔

بچے اپنے اسلاف کے راستے پرگامزن

چونسٹھ سالہ خیری حنون، جو کہ طولکرم شہر سے آئے تھے، نے پرانا روایتی فلسطینی لباس زیب تن کرر کھا تھا۔ اس کے پاس ایک بہت پرانا بیگ تھا، جس میں اس نے اپنے کپڑے سنہ 1948ء کو اپنے والدین کی جبری نقل مکانی کی یادگاریں سنھبال رکھی تھیں۔ ان میں چیزوں میں خیری حنون کے والد کےاس گھر کی چابی بھی موجود ہے جسے پچہتر برس قبل اسرائیلی فوج نے مسمار کر دیا تھا۔

حنون نے کہا کہ"ہم قابض ریاست کو یہ بتانے آئے تھے کہ اس طرح انہوں نے ہمارے باپ دادا کو ان کے کپڑوں اور شناخت سے نکال دیا جو ہمیں وراثت میں ملے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ اپنا گھر بھول جائیں، انہوں نے بڑوں کو مار ڈالا تاکہ بچے بھول جائیں، لیکن بچوں نے اپنے آبا واجداد کے راستے پر چلتے ہوئے اس عہد کی پیروی کی جو انہوں نے اپنی سرزمین پر واپس جانے کے لیے خود سے کیا تھا۔"

دن کے وسط تک فلسطینی اتھارٹی نے اس شعبے کے تمام کارکنوں سے کہا کہ وہ سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 5.9 ملین فلسطینی پناہ گزین آج مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، اردن، لبنان اور شام میں مہاجر کیمپوں میں رہنے پرمجبور ہیں۔ 760,000 فلسطینیوں میں سے کچھ ابھی تک زندہ ہیں جو بے گھر ہوئے یا بھاگنے پرمجبور ہوگئے تھے۔ سنہ 1948ء کی جنگ کے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی نقل مکانی دیکھنے میں آئی تھی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں نے لڑائیوں کے دوران رضاکارانہ طور پر اپنے گاؤں چھوڑے تھے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے قتل عام کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

نکبہ کے دوران سیکڑوں فلسطینی دیہات تباہ کیے گئے،اس دوران 760,000 سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کردیا گیا۔ فلسطینی ماہر تعلیم ولید الخالدی نے 400 سے زائد دیہات کی تباہی یا نقل مکانی کا ریکارڈ مرتب کیا ہے۔ جب کہ اسرائیلی تنظیم زوکروٹ (Zochrot) کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے قیام کے وقت چھ سو فلسطینی گاؤں یا قصبے تباہ ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں