عراق: اسکول ٹیچرکی جانب سے طالبہ کی مبینہ توہین پرعوامی حلقوں میں غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں ایک نجی تعلیمی ادارے کے استاد کی جانب سے ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ توہین آمیز برتاؤ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پرعوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تدریس کے مقدس پیشے سے منسلک کسی شخص کو طلبا اورطالبات کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی ایسا نا مناسب رویہ اپناتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

دوسری طرف وزیر تعلیم ابراہیم نامس الجبوری نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری انکوائری کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبا کے ساتھ توہین آمیز سلوک ناقابل قبول ہے اور اس میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر عراق کے ایک نجی تعلیمی ادارے کے کیمسٹری کے استاد کی طرف سے ایک طالبہ کی مبینہ توہین پرمبنی ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔

مڈل اسکول کے چھٹی جماعت کے کیمسٹری کے استاد نے نجی تدریسی اداروں میں مرد اور خواتین کے طالب علموں کی توہین کی۔

وزیر تعلیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "کسی کو بھی طلباء کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خواہ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں۔ اساتذہ کی طرف سے تدریسی پیشے کے تقدس کو قائم رکھنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں