ریاض میں سرسبز مقامات 2030 میں عالمی اوسط سے 3 گنا تک بڑھ جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں شہری ترقیاتی پروگرام "گرین ریاض" بہت سے لوگوں کے لیے سرسبز ماحول کی فراہمی اور عرب دنیا کے سب سے بڑے دارالحکومتوں میں سے ایک "ریاض" میں رہنے کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ ریاض میں سعودی عرب کی کل آبادی کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ آباد ہے۔ گرین ریاض کو دنیا کے سب سے زیادہ شہری جنگلات کے منصوبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ خادم حرمین شریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پ شروع کیے گئے چار عظیم منصوبوں میں سے ایک ہے۔

12 رجب 1440 ہجری کو شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد ریاض شہر کی درجہ بندی کو دنیا کے اہم شہروں کی رینکنگ میں بلند کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ریاض میں 120 رہائشی محلوں میں شجرکاری، تمام اہم سڑکوں اور عوامی چوکوں پر شجرکاری کے علاوہ بڑے پارکس اور دیگر سہولیات کو بھی سرسبز مقامات میں بدلنے کا ہدف بنایا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق شہری جنگلات وہ ہوتے ہیں جو شہروں اور رہائشی علاقوں میں عوامی مقامات پر سبز بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔ ان جنگلات کے ذریعے شہر میں سبزہ کی موجودگی کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ یہ شہری ترقی سے منسلک ایک اہم اور جدید آلات میں سے ایک طریقہ ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران شہروں میں لوگوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے ہر سطح پر آبادی کے لیے ایک صحت مند آب و ہوا پر مبنی سماجی ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔

چونکہ درخت یا سبز غلاف کائنات کے سب سے اہم قدرتی عناصر میں سے ایک ہیں اس لیے لوگ ان کے قریب ہونے پر راحت محسوس کرتے ہیں ۔ انسان کا وجود فطرت میں زندگی کے بنیادی نظام کا حصہ ہوتا ہے اور یہ اب بھی برقرار ہے۔

"گرین ریاض" پروگرام کا عملی طور پر آغاز العزیزیہ، النسیم، الجزیرہ، العریجاء، القرطبہ، الغدیر اور النخیل جیسے متعدد محلوں میں درخت لگانے اور عارضی نمائشوں کے انعقاد سے کر دیا گیا تھا۔ اس طرح ہر محلے میں، مکینوں کو اپنے محلے کے مستقبل کے بارے میں آگاہ کرنے اور عام سماجی بیداری پیدا کرنے کے لیے ریاض کی زیادہ تر اہم سڑکوں اور شہر کے داخلی راستوں پر شجر کاری کی گئی۔ ہر محلے کے لیے درختوں سے مختلف ڈیزائن تشکیل دیے گئے۔ موزوں قسم کے درختوں کا الگ الگ انتخاب کیا گیا۔ شجر کاری میں تمام عالمی معیارات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ بہترین مہارت رکھنے والی کمپنیوں کے ذریعہ شجر کاری شروع کردی گئی تاکہ 2030 تک 7.5 ملین درخت لگانے کا حتمی ہدف حاصل کرلیا جائے۔

جہاں تک پانی اور درختوں کی کثرت کے چیلنج کا تعلق ہے "گرین ریاض" نے اس اہم شعبے میں مہارت رکھنے والی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ ایک پائیدار منصوبہ بنایا اور شراکت داری قائم کی۔ اس منصوبے کے تحت دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے والے پانی کو استعمال کرتے ہوئے سرسبز مقامات کے لیے آبپاشی کے سب سے بڑے نیٹ ورک کو بنانا اور چلانا ہے۔

آبپاشی کے مقاصد کے لیے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی شرح کو 3 لاکھ 90 ہزار مکعب میٹر سے بڑھا کر 17 لاکھ مکعب میٹر تک لے جایا گیا ہے۔

"گرین ریاض" پروگرام سعودی دارالحکومت کے رہائشیوں کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔ اس میں ایک شہری جنگلات کا پروگرام متعارف کرایا گیا ہے جس میں شہر کے بیشتر عناصر اور اجزاء شامل ہیں۔ اس پروگرام میں 3331 چھوٹے پارکس، 43بڑے پارکس، 4500 مساجد، 5939 تعلیمی سہولیات، 64 یونیورسٹیاں اور کالجز، 387 صحت کی سہولیات اور 1,621 سرکاری عمارات میں شجر کاری کی جارہی ہے۔ شجرکاری پروگرام 4,440 کلومیٹر گلیوں اور سڑکوں پر محیط ہے۔

"گرین ریاض" پروگرام میں شجرکاری کے منصوبوں کے اہداف شہر میں فی کس سر سبز رقبہ کو موجودہ 1.7 مربع میٹر سے بڑھا کر 28 مربع میٹر تک لانا ہے۔ اس سے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے قومی عزم کی نمائندگی ہوتی ہے۔ حالیہ درختوں سے 16 گنا زیادہ درخت لگائے جارہے ہیں۔ ریاض شہر میں 7.5 ملین درخت لگانے کا ہدف بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں