سعودی علاقے الجوف سے 9 ہزار سال قدیم پتھر کی تعمیرات برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی اور بین الاقوامی آثار قدیمہ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے شمالی سعودی عرب کے الجوف میں جبل الظلّیات کے علاقے سے انسان کی تعمیر کردہ قدیم ترین پتھر کی تعمیرات میں سے ایک دریافت کرلی۔ یہ تعمیرات 8 سے 9 ہزار پہلے کی ہیں۔ آثار قدیمہ کے سروے کے منصوبوں کے یہ نتائج ہیریٹیج اتھارٹی نے حال ہی میں بین الاقوامی سائنسی مراکز کے تعاون سے حاصل کیے تھے۔

سائنسی جریدے "پلس ون" کے مطابق پتھر کی تعمیرات پتھر سے بنائے گئے جال کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی بڑی عمارتیں ہیں جو جانوروں کے جال کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ یہ عمارتیں انسانی ذہین رویے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان عمارتوں سے اس فہم میں اضافہ ہوتا ہے کہ صحرائی پتھر کے تعمیرات کو کس طرح بنایا گیا تھا۔

الجوف کے علاقے میں جبل الظلّیات میں صحرائی پتھر کے جال کے دو جوڑے ملے جنہیں 3.50 کلومیٹر کے فاصلے سے الگ کیا گیا تھا۔ 382 سینٹی میٹر لمبے اور 235 سینٹی میٹر چوڑے پتھر پر کھینچی گئی صحرائی پتھر کے جال کی ایک ایک چھوٹی پینٹنگ بھی ملی ہے۔ اس سے قبل اس علاقے سے تقریباً 8 ہزار سال پرانا پتھر بھی دریافت ہوا تھا۔

ان بڑی تعمیرات کے دوسرے چھوٹے نقش بھی پہلے مل چکے ہیں لیکن وہ اتنی درستگی کے ساتھ نہیں تھے جیسے حالیہ ملنے والا نقش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں