شام میں امریکہ کے ہاتھوں مارا گیا مبینہ القاعدہ رہنما چرواہا نکلا

امریکی اخبار نے کہا کہ امریکی حکام نے سابقہ الزامات کو واپس لے لیا ہے کہ ڈرون حملے میں شام میں القاعدہ کے ایک سینئر رہنما کی ہلاکت ہوئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے ایک حالیہ حملے میں ایک شامی چرواہے اور 10 بچوں کے باپ کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے ہلاک کیا کہ وہ القاعدہ کا رہنما تھا۔

اخبار نے کہا کہ امریکی حکام بعد میں ان دعوؤں سے پیچھے ہٹ گئے تھے کہ ڈرون حملے میں شام میں القاعدہ کے ایک سینئر رہنما کی ہلاکت ہوئی تھی۔

یہ اعتراف دہشت گردی کے ماہرین اور مرنے والے شخص کے اہل خانہ کی جانب سے پینٹاگون کے اس بیان پر سوالات اٹھانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اس کارروائی میں شام میں القاعدہ کی بااثر شخصیت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی افواج شام میں ان عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جنہیں وہ القاعدہ، داعش اور دیگر مسلح دھڑوں کے دہشت گرد سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں