عرب سمٹ

ہمیں اپنے حالات کو از سر نو مرتب کرنے کا ایک تاریخی موقع ملا ہے: شامی صدر

عرب لیگ کے نظام اور طریقہ کار کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے: بشار الاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام کے صدر بشار الاسد نے جدہ میں منعقدہ عرب سربراہی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اپنی صورت حال کو از سر نو ترتیب دینے کے لیے ایک تاریخی موقع ملا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ عرب دنیا کے آپس کے تعلقات اور مشترکہ تعاون کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے ساتھ امید بڑھ رہی ہے۔

بشار الاسد نے عرب معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا، "عرب لیگ کے نظام اور کام کے طریقہ کار کو وقت کے ساتھ مطابقت رکھنے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔"

جدہ میں، آج جمعے کی سہ پہر، بتیسویں عرب سربراہی اجلاس کا آغاز ہوا، جس میں امید، اتفاق رائے، اور اعتماد کے ماحول کے درمیان اہم مسائل کی مثبت عکاسی کی گئی۔

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے عرب سربراہی اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

عرب سربراہی اجلاس کا آغاز الجزائر کے وزیر اعظم ایمن بن عبدالرحمن کے خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے عالم عرب کی صفوں کو متحد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، عرب لیگ میں شام کی واپسی کا خیر مقدم کیا، اور شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی کو ختم کروانے میں کردار ادا کرے۔

انہوں نے سوڈان کے بھائیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات پر قوم کے مفاد کو ترجیح دیں، مذاکرات کا سہارا لیں اور تشدد سے اجتناب کریں۔

32ویں عرب سربراہی اجلاس کی صدارت سنبھالنے کے بعد، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سربراہی اجلاس کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا، اور شریک عرب رہنماؤں اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کا خیر مقدم کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ "ہم مشرق اور مغرب کے دوست ممالک کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم امن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں،"

انہوں نے امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنے خطے کو تنازعات کے علاقے میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

مسئلہ فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "مسئلہ فلسطین عربوں کا بنیادی مسئلہ تھا اور اب بھی ہے۔‘‘

شہزادہ محمد بن سلمان نے شام کے صدر بشارالاسد کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ عرب لیگ میں واپسی سے شام کا بحران ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ سوڈان میں بات چیت امن کی بنیاد ہو گی۔ انہوں نے سوڈانی تنازع کے دونوں فریقوں کی طرف سے جدہ اعلامیہ پر دستخط کرنے اور مملکت کی ثالثی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ جدہ مذاکرات سوڈان میں موثر جنگ بندی تک پہنچ جائیں گے۔

سعودی ولی عہد نے یوکرین کے بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ "ہمارے لیے ماضی کا صفحہ پلٹتے ہوئے، تنازعات کے ان تکلیف دہ سالوں کو یاد کرنا کافی ہے جن سے خطہ گزرا... ہمارے لیے یہ کافی ہے کہ ہم ان تنازعات کا مقابلہ کریں جن سے عوام اور اس خطے کو نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے ترقی رک گئی۔"

اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شام کے صدر بشارالاسد سمیت عرب سربراہی اجلاس میں شریک ممالک کے رہنماؤں اور وفود کا استقبال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں