ہراسانی سکینڈل کی وجہ سے عراق کی فیفا ورلڈ یوتھ چیمپئن شپ خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انڈر 20 یوتھ فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ارجنٹائن میں ہفتے کے روز ایک نیا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد عراقی قومی ٹیم کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ مقابلے میں 23 ممالک کی ٹیمیں شریک ہیں۔ اس سکینڈل میں ایک کھلاڑی پر جمعرات کو جنسی ہراسیت کا الزام لگایا گیا ہے۔

عراقی کھلاڑی پر عاید کردہ الزام میں کہا گیا ہے کہ اس نے گذشتہ جمعرات کو ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس سے 60 کلومیٹر دور لاپلاٹا شہر کےDazzler ہوٹل کی ایک خاتون کو ہراساں کیا ہے۔

خاتون ملازمہ نےدعویٰ کیا کہ عراقی کھلاڑی نے ہوٹل میں قیام کے دوران اسے جسم کے نازک حصےکو چھونے پر مجبور کیا تو خاتون نے اس پر مزاحمت کی اور مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ارجنٹائن کے مقامی میڈیا اور بالخصوص ’ال ایڈیٹر پلیٹنس‘ اسپورٹس اخبار کی ویب گاہ کےحوالے سے بتایا ہے کہ ہوٹل کی ملازمہ نے بتایا کہ مبینہ ہراسانی کے اس واقعے کے بعد فیفا کے مینیجرز کی طرف سے ہوٹل میں ایک میٹنگ ہوئی۔

عراقی قومی ٹیم نے مترجم کی موجودگی میں فیصلہ کیا کہ ہراساں کرنے والے کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ جو کچھ ہوا اسے غلطی مان کر نظر انداز کر دیا جائے اور متاثرہ خاتون کھلاڑی کے خلاف کسی قسم کی شکایت نہ کرے۔

دوسری جانب عراقی ٹیم نے کسی کھلاڑی کی طرف سے خاتون کو ہراساں کرنے کی خبروں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور ارجنٹائن کے بعض اخبارات میں جعلی اور من گھڑت خبریں چل رہی ہیں کہ بیونس آئرس میں کسی کھلاڑی نے ہراسانی کا ارتکاب کیا ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے اور کسی کھلاڑی کی طرف سے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گیا۔

تاہم اخبار لا پلاٹا نے شہر، جہاں ٹورنامنٹ کے 18میچز ہوں گے، نے اس مسئلے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراقی ٹیم اور اس کے ہمراہ آ نے والے افراد کی تعداد 48 ہے۔ عراقی ٹیم سوموار کے روز اپنا پہلا میچ یوراگوئے کے خلاف کھیلے گی۔

اخبار نے یہ رپورٹ پولیس سے حاصل کی تھی، جس میں یہ بتایا گیا کہ عراقی کھلاڑی پر عاید کردہ تمام الزامات میں کتنی صداقت ہے۔ ایسا ہوا ہے یا یہ محض الزام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں