ڈیڑھ سالہ سفارتی بائیکاٹ کا خاتمہ، بحرین کے اقدام کا خیر مقدم کرتے: لبنان

بحرین نے لبنان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سفیر کی سطح پر دوبارہ کام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بحرین نے لبنان کے ساتھ سفیروں کی سطح پر سفارتی نمائندگی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ بحرین نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ڈیڑھ سال کی دوری کے بعد لبنان کے ساتھ سفارتی نمائندگی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بحرین کی وزارت خارجہ نے ہفتہ کی شام اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ بحرین نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے لبنان کے ساتھ سفیروں کی سطح پر نمائندگی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے بحرین کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کے تناظر میں اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

اکتوبر 2021 کے آخر میں بحرین اور کویت نے اپنے سفیروں کو بیروت سے واپس بلا لیا تھا۔ سعودی عرب کی مثال کے بعد لبنانی سفیروں کو بھی ملک سے جانے کا کہا تھا۔ امارات نے بھی اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا تھا اور اپنے شہریوں کو لبنان کا سفر کرنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سعودی عرب اور لبنان کے درمیان سفارتی بحران اس وقت کے وزیر اطلاعات جارج کورداہی کے ان بیانات کے پس منظر میں شروع ہوا تھا جس میں انہوں نے یمن میں دہشتگرد حوثی ملیشیا کا ساتھ دیا تھا۔ جارج کے یہ بیانات ان کے وزیر اطلاعات بننے کے سے قبل کے تھے اور ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سامنے لائے گئے تھے۔

یمن میں 2015 سے سعودی زیرقیادت فوجی اتحاد کی حمایت یافتہ حکومت اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے۔۔ حوثی ملیشیا نے 2014 سے دارالحکومت صنعا سمیت شمال اور مغرب میں بڑے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

کورداہی نے بحران پر قابو پانے کی کوشش میں اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا لیکن خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار رہے۔

اب بحرین کا یہ فیصلہ علاقائی سفارتی پیش رفت کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ مارچ میں ریاض اور تہران کے درمیان چینی سرپرستی میں سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں