امریکا کی اسرائیلی آباد کاروں کو مغربی کنارے میں مستقل رہنے کے اجازت نامے پر سرزنش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی حکام نے اتوار کو اسرائیل کے اس حکم نامے پر سرزنش کی جو یہودی آباد کاروں کو مغربی کنارے کی ایک چوکی میں مستقل موجودگی قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے جس کے بارے میں واشنگٹن نے یروشلم کو متنبہ کیا تھا کہ اسے قانونی حیثیت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

ٹائمز آف اسرائیل کی خبر کے مطابق، اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ نے جمعرات کو ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس کے تحت اسرائیلیوں کو ''حومش " چوکی کے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے وہاں ایک باضابطہ بستی تعمیر کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بارہا اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی حرکت سے باز رہے جس سے فلسطینیوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو، جیسے کہ آبادکاروں کی چوکیوں کو باضابطہ بنانا، اور خاص طور پر حومش پر پیش رفت اسے متنبہ کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک بیان میں کہا کہ "ہمیں اسرائیلی حکومت کے اس حکم پر سخت تشویش ہے جس کے تحت اس کے شہریوں کو ''حومش چوکی'' میں مستقل موجودگی قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جو کہ اسرائیلی قانون کے مطابق غیر قانونی طور پر نجی فلسطینی زمین پر تعمیر کی گئی تھی۔"

ملر نے کہا کہ یہ حکم ، 2004 میں اور حال ہی میں بائیڈن انتظامیہ سے کیے گئے اسرائیلی حکومت کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

واشنگٹن میں اسرائیل کے سفارت خانے نے اس بارے میں فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ زیر بحث حکم کا مقصد اسرائیلیوں کو حومش میں ایک موجودہ مذہبی اسکول میں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دینا ہے، اور یہ کہ حکومت کا بستی کو دوبارہ تعمیر کرنے یا نجی فلسطینی زمین پر اسرائیلی موجودگی کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

امریکہ کی طرف سے یہ ملامت کئی مہینوں تک اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد سامنے آئی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن اور اس کے اہم اتحادی اسرائیل کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔

اس سے قبل اتوار کے روز، اسرائیلی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا، جو مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے مقدس ہے، اور اسرائیل کو "انچارج" قرار دیا۔

ملر نے کہا کہ واشنگٹن کو "اشتعال انگیز دورے" اور اس کے ساتھ "اشتعال انگیز بیانات" کے بارے میں بھی تشویش ہے۔

"اس مقدس جگہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، اور ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کے تقدس کا احترام کریں،" انہوں نے امریکی موقف کی بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں