ایران تجارتی جہازوں کو’تیرتے ہوئے دہشت گرد اڈوں‘ میں تبدیل کر رہا ہے:اسرائیل کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے وزیردفاع نے ایران پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کو فوجی جہازوں میں تبدیل کر رہا ہے تاکہ انھیں مشرقِ اوسط کی سمندری حدود میں ’’دہشت گردوں کے تیرتے ہوئے اڈے‘‘ بنایا جا سکے۔

وزیردفاع یوآف گیلنٹ نے سوار کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پانچ مختلف بحری جہازوں کی تصاویر پیش کیں اور کہا کہ ایران نے خفیہ طور پر انھیں لڑاکا جنگجوؤں اور ہتھیاروں سے لیس کرکے فوجی بحری جہازوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تہران ان مسلح بحری جہازوں کو ’’مشرق اوسط میں اپنے پنجے پھیلانے‘‘ اور اسرائیل کے خلاف ’’ایک نیا محاذ کھولنے‘‘کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ براہ راست اس سمندری دہشت گردی کا تسلسل ہے جو ایران خلیج اور بحیرۂ عرب پر مسلط کر رہا ہے اور وہ اپنی سرگرمی کو بحر ہند اور بعد میں بحیرۂ احمر اور بحیرۂ روم (بحرِمتوسط) تک پھیلانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انھوں نے صہیونی ریاست کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ’’ ایران خطے اور دنیا کے استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے‘‘۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان سمندری کشیدگی وسیع تر جغرافیائی سیاسی رقابت کی توسیع ہے ، جس میں ایران سے جوہری معاہدے پر تنازعات ، ایران کی جانب سے مشرق اوسط میں اپنی آلہ کار ملیشیاؤں کی سیاسی اور مالی حمایت اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری دیرینہ تنازع شامل ہے۔

حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سمندری تنازعات کا ظہورخلیج میں ہونے والے متعدد واقعات کی شکل میں ہوا ہے۔ ان میں بحری جہازوں کو قبضے میں لینا، بحری جہازوں پر حملے اور سمندری جارحیت کے الزامات شامل ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے اور سمندری سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کے الزامات عاید کرتے ہیں۔

ایران کے خلاف اسرائیلی وزیردفاع کا نیا الزام بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کے پانیوں میں سلامتی کے بارے میں بین الاقوامی خدشات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران میں ایران نے دو غیرملکی بحری جہازوں کو قبضے میں لیا ہے جس کے بعد خلیج میں بین الاقوامی جہازرانی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں کا آمدورفت موضوع سرخیوں میں رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں