ایران میں شیراز مزار پر حملے میں ملوث دو افراد کو سرعام پھانسی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران گذشتہ سال شاہ چراغ مزار پر حملے میں ملوث دو افراد کو سرعام پھانسی دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
ایرانی عدلیہ کے اعلی اہلکار نے اتوار کو کہا ان دونوں کو گذشتہ سال شیراز شہر میں ایک شیعہ مزار پر ہونے والے مہلک حملے میں ملوث ہونے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے خبر دی کہ ، صوبہ فارس کے چیف جسٹس کاظم موسوی نے کہا ہے کہ سزائے موت کو برقرار رکھا گیا ہے اور یہ کہ پھانسی "جلد ہی" عوامی سطح پر دی جائے گی۔

ان دونوں افراد کو مارچ میں " فساد فی الارض، مسلح بغاوت اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے" میں مدد کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

فارس کے چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے 26 اکتوبر کو شاہ چراغ کے مزار پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے مرکزی مجرم کے لیے اسلحہ کی فراہمی، خریداری، رسد اور رہنمائی میں براہ راست کردار ادا کیا۔

اس حملے میں 13 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے تھے۔

اس کیس میں ملوث تین دیگر ملزمان کو داعش کے ساتھ تعلق کی وجہ سے پانچ، 15 اور 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق، حملے کا مرکزی مجرم، جس کی شناخت حمید بدخشاں کے نام سے ہوئی ہے، اپنی گرفتاری کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، سالانہ پھانسیوں کی تعداد کے لحاظ سے ایران چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

ناروے میں قائم گروپ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ایران نے 2023 کے آغاز سے اب تک کم از کم 270 افراد کو سزائے موت دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں