خلا میں روانگی سے قبل سعودی خلا بازوں سے ‘‘العربیہ’’ کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے دو خلا باز ریانہ برناوی اور علی القرنی کے خلا میں روانگی سے چند گھنٹے قبل العربیہ نے ان سے خصوصی طور پر ملاقات کی۔ اس گفتگو میں دونوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں سعودی عرب کی قیادت کی جانب سے لا محدود حمایت کا یقین دلایا گیا ہے۔

"خلا میں سرمایہ کاری کریں"

ریانہ برناوی نے کہا کہ میں اور علی القرنی سعودی عرب کو خلا کے میدان میں داخل کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کو خلا کے میدان میں مقابلہ کرنے کے لیے دیگر ملکوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

ریانہ نے بتایا کہ جب پہلی مرتبہ مجھے اطلاع ملی کہ مجھے خلا میں جانے کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے اور میں خلا میں جانے والی پہلی سعودی خاتون بنوں گی تو یہ دن میری زندگی کا سب سے فخر والا دن ہے۔ یہ دن میرے لیے ایک غیر معمولی دن تھا۔

خلائی سٹیشن کے اندر بقائے باہمی

اس موقع پر علی برناوی نے آپریشنل کاموں اور بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے اندر ایک ساتھ رہنے کے بارے میں بتایا کہ ہم نے اس حوالے سے اپنی تربیت کی تکمیل کی ہے۔ ہمیں لانچ اور واپسی کی نقل کرنے کی تربیت دی گئی۔ اسی طرح ہم نے وہاں پر ہونے کی تحقیق کی بھی یہاں مشق کی ہے۔

خیال رہے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو سپریم سپیس کونسل کے صدر بھی ہیں نے دونوں خلابازوں کا استقبال کیا تھا اور بلند امیدوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے سائنسی سفر میں کامیابی اور وطن واپسی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

سعودی سپیس اتھارٹی نے انکشاف کیا تھا کہ ریانہ برناوی اور علی القرنی کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔

52
52
مقبول خبریں اہم خبریں