اسرائیلی فوج کی غربِ اردن میں کارروائی، فلسطینی مزاحمت کار کا گھر مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوجیوں نے منگل کے روز مغربی کنارے میں ایک فلسطینی مزاحمت کار کے گھر کو مسمار کر دیا ہے۔اس فلسطینی کو مارچ میں تل ابیب کے وسط میں فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کردیا گیا تھا۔

صہیونی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجیوں اور سرحدی پولیس کی فورسز نے 9 مارچ 2023 کو تل ابیب کے علاقے دیزنکوف میں فائرنگ کرنے والے المعتز باللہ خواجا کا غربِ اردن کے گاؤں نیلن میں واقع گھر تباہ کر دیا ہے۔

23 سالہ مقتول خواجا غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے رکن تھے۔ان کے حملے میں ایک اسرائیلی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔اسرائیلی فوجیوں جوابی فائرنگ کرکے انھیں موقع پر ڈھیرکردیا ہے۔

ان کا آبائی گاؤں گرین لائن کے قریب واقع ہے۔ یہ سبزلکیر اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے سے الگ کرتی ہے اور تل ابیب سے بہ مشکل 20 کلومیٹر (12 میل) کے فاصلے پر ہے۔

نیلن کے میئر یوسف خواجا نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے چار منزلہ اپارٹمنٹ بلاک کے تمام مکینوں کو ان اقامت گاہوں سے نکال دیا اور اس کے بعد علی الصباح فلسطینی مزاحمت کار کا پہلی منزل پر واقع فلیٹ مسمار کر دیا۔

صہیونی فوج نے اپارٹمنٹ کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے فوجیوں کی دھماکا خیز مواد نصب کرنے کی ویڈیو جاری کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے خبر دی ہے کہ معتز باللہ خواجا کی بڑی بڑی تصویریں عمارت کی دیواروں پرآویزاں تھیں۔ ان پر انھیں 'شہید' کے طور پر یاد کیا گیا تھا۔

صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ مکان مسماری کی اس کارروائی کے دوران میں فوجیوں اور مقامی فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ میئر نے بتایا کہ ان میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے سنہ1967ء کی جنگ کے زمانے سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔اس کی قابض فوج ان فلسطینیوں کے گھروں کو آئے دن مسمار کرتی رہتی ہے جن پر اسرائیلیوں پر مہلک حملوں کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی فلسطینیوں کی اجتماعی سزا کے مترادف ہے کیونکہ اس سے بچوں سمیت غیرجنگجو افراد بھی بے گھر ہو جاتے ہیں جبکہ لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کچھ فلسطینیوں کو حملوں سے روکنے میں مؤثر ہے۔

مقتول خواجا کے والد صلاح الخواجا نے اسرائیلی کارروائی کے بعد اپنے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ نفرت انگیز اقدام مادر وطن سے ہماری محبت کو مزید تقویت دے گا۔ مقبوضہ بیت المقدس اور ایمان (اسلام) اور اللہ کی مدد سے ہماری جڑیں یہاں پیوست رہیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں