ریانہ برناوی اور علی القرنی نے سعودی خلائی عزائم کے نئے دور کا آغاز کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی خلا باز ریانہ برناوی اور علی القرنی نے اس ہفتے خلا میں قدم رکھا اور "قومی فخر کا باعث" بن گئے۔ سعودی سپیس کمیشن نے کہا ہے کہ یہ آٹھ روزہ مشن سعودی عرب کے خلا کے عزائم کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا ۔

العربیہ انگلش کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سعودی خلائی کمیشن کے مشیر ڈاکٹر ہیثم الطویجری نے برناوی کو بھی ویلنٹینا ولادیمیروونا تریشکووا سے تشبیہ دے دی۔ ویلنٹینا تریشکووا ایک روسی انجینئر اور 16 جون 1963 کو خلاء میں پرواز کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے کہا ریانہ عرب دنیا کی ہماری ویلنٹینا ہے۔

ڈاکٹر ہیثم نے کا آپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1963 میں ہمارے پاس ویلنٹینا تریشکووا تھی جو خلا میں جانے والی پہلی خاتون خلاباز تھیں اور وہ پوری دنیا کی تمام خواتین کے لیے ایک تحریک تھیں۔ انہوں نے ثابت کیا تھا کہ خواتین ہر وہ کچھ کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتا ہے۔

سعودی خلاباز ریانہ برناوی
سعودی خلاباز ریانہ برناوی

اب ریانہ عرب دنیا کے لیے ہماری ویلنٹینا ہے ۔ ان کی وجہ سے عرب ملکوں کی تمام خواتین ستاروں کو دیکھنے اور کہنے کے قابل ہو جائیں گی اور وہ کہ سکیں گی کہ ہم بھی ریانہ تک پہنچ سکتی ہیں۔

سعودی عرب نے تاریخ رقم کردی

سعودی عرب نے پیر 22 مئی کو اپنے دو شہریوں کو کامیابی کے ساتھ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی سپیس سنٹر سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ( آئی ایس ایس) میں چار افراد کے عملے کے ‘‘ ایکسیم ٹو ’’ مشن کے حصے کے طور پر بھیجنے کے بعد تاریخ رقم کردی۔

33 سالہ ریانہ برناوی اور 31 سالہ علی القرنی 17 گھنٹے کے سفر کے بعد پیر کو آئی ایس ایس پہنچے۔ اپنے آٹھ روزہ قیام کے دوران وہ سائنس اور تحقیق پر مبنی 14 تجربات میں حصہ لیں گے۔

کمانڈر پیگی وٹسن، پائلٹ جان شوفنر، اور مشن کے ماہرین علی القرنی اور ریاناہ برناوی جو سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہیں 21 مئی 2023 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر طے شدہ Axiom مشن 2 (Ax-2) کے آغاز سے پہلے )
کمانڈر پیگی وٹسن، پائلٹ جان شوفنر، اور مشن کے ماہرین علی القرنی اور ریاناہ برناوی جو سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہیں 21 مئی 2023 کو امریکی ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر طے شدہ Axiom مشن 2 (Ax-2) کے آغاز سے پہلے )

کامیاب لانچنگ کو بیان کرتے ہوئے الطویجری نے کہا کہ ظاہر ہے، بہت زیادہ جوش و خروش تھا، آئی ایس ایس پر جانے والی پہلی سعودی اور عرب خاتون کا ہونا قومی فخر کی بات ہے۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جب ہم بیک وقت دو خلابازوں کو سائنسی مشن پر بھیجنے کے قابل تھے۔

یاد رہے سعودی سپیس کمیشن 2018 میں شروع کیا گیا تھا۔اس کمیشن کا مقصد سعودی اقتصادی تنوع کو تیز کرتنا اور عالمی خلائی صنعت میں سعودی عرب کی شرکت کو بڑھانا تھا۔

اپنے قیام کے بعد سے سعودی سپیس کمیشن نے مزید تعاون کے لیے یورپی خلائی ایجنسی، برطانیہ، فرانس اور ہنگری کے ساتھ معاہدے کیے۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں سعودی طلبہ کو بھیجنے کے لیے سکالرشپ پروگرام شروع کیے۔

التویجری نے کہا کہ آئی ایس ایس تک جانے کا مشن سعودی عرب کے خلائی عزائم کا نقطہ آغاز ہے۔ ہماری نظریں ایک طویل مدتی پروگرام پر ہیں۔ مستقبل میں سعودی عرب صرف آئی ایس ایس ہی نہیں بلکہ چاند پر مشن بھیجنے کے بھی قابل ہوگا۔

خلا میں تجربات

ایکسی من نے تصدیق کی ہے کہ چاروں خلاباز اچھی طرح سے کام کر رہے ہیں ۔ ان کے تجربات سائنس، آؤٹ ریچ، ہیلتھ سائنسز اور موسمی ٹیکنالوجی پر تجارتی سرگرمیوں پر مشتمل ہیں۔ وہ مائیکرو گریوٹی حالات میں تجربات کر رہے ہیں۔

21 مئی 2023 کو ریاض میں اسپیس ایکس فالکن 9 اور ڈریگن کیپسول کے اجراء سے قبل ایک سعودی شخص اپنی بیٹی کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
21 مئی 2023 کو ریاض میں اسپیس ایکس فالکن 9 اور ڈریگن کیپسول کے اجراء سے قبل ایک سعودی شخص اپنی بیٹی کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

تجربات کی صف میں کلاؤڈ سیڈنگ بھی شامل ہے - جس کا پہلی مرتبہ خلا میں مائیکرو گریویٹی کے حالات میں جائزہ لیا جائے گا تاکہ چاند اور مریخ پر مستقبل کی انسانی بستیوں میں مصنوعی بارش پیدا کرنے کے لیے موسم پر قابو پانے والی ٹیکنالوجی تیار کی جا سکے۔

خلانورد زمینی مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے بھی جگہ کا استعمال کریں گے تاکہ جلد کے خلیات (فبرو بلاسٹس) کو سٹیم سیلز میں دوبارہ پروگرام کیا جا سکے جو مختلف بافتوں کی اقسام پیدا کرنے کے قابل ہوں۔

نوجوان عربوں کو متاثر کرنے والا

مشن کا حصہ نوجوان عربوں کو سائنس، ٹیک، ریاضی اور انجینئرنگ (STEM) کے مضامین کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔ الطویجری نے کہا کہ وہ آئی ایس ایس پر بہت سے سائنسی تجربات کر رہے ہیں۔ ان میں سے تین تجربات تعلیمی رسائی رکھتے ہیں۔

ریانہ برناوی اور علی القرنی نے اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے اسپیس ایکس ڈریگن خلائی جہاز پر سوار ہوکر فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں لانچ کمپلیکس 39A سے ISS کے لیے روانہ کیا۔
ریانہ برناوی اور علی القرنی نے اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے اسپیس ایکس ڈریگن خلائی جہاز پر سوار ہوکر فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں لانچ کمپلیکس 39A سے ISS کے لیے روانہ کیا۔

ان تجربات میں خلاباز طبی، بایومیڈیکل اور جسمانی تجربات کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ سعودی عرب کی مختلف ریاستوں میں 47 مقامات پر تقریباً 12 ہزار طلبہ انہیں دیکھ سکیں گے اور بصری تجربات سے حاصل کی گئی معلومات طلبہ کو زمین پر تجربات کے قابل بنائے گی۔

سعودی عرب کے خلاباز ریانہ برناوی (L) اور علی القرنی (R) نے بیرونی خلا میں مملکت کے تاریخی مشن کا آغاز کیا۔ (ٹویٹر)
سعودی عرب کے خلاباز ریانہ برناوی (L) اور علی القرنی (R) نے بیرونی خلا میں مملکت کے تاریخی مشن کا آغاز کیا۔ (ٹویٹر)
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں