’جب والدین نے بچوں کو چھوڑ دیا تو دو بہن بھائی شیرخواربہن کی باری باری دیکھ بھال کرتے

خاندانی ناچاقی کے نتیجے میں بکھرنے والے مصری خاندان کی سچی مگرلرزہ خیز کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خاندانی تنازعات بالخصوص میاں بیوی کے درمیان ناچاقیوں کے نتیجے میں اس کے پہلے اور براہ راست متاثر ہونے والوں میں ان کے اپنے بچے ہوتے ہیں۔ کویت میں پیش آنےوالے ایک مصری خاندان کی کہانی اس سے بھی لزرہ خیز ہے جہاں ماں اور باپ دونوں نے اپنے چھ بچوں کو حالات کے رحم وکرم چھوڑ دیا۔ ان کم عمر بچوں میں ایک تین ماہ کی بچی بھی شامل تھی۔

ماں ناراض ہو کر کسی اور گھر چلی گئی جب کہ باپ اپنے ایک دوست کے پاس چلا گیا۔ بچوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا جب کہ بڑے بچے اسکول بھی جاتے تھے۔ والدین کی نالائقی کو بچوں نے کم کرنےکی کوشش کی۔ دو بچوں [ایک بچے اور ایک بچی] نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ننھی شیرخوار بہن کی دیکھ بھال باری باری کریں گے۔ چنانچہ ایک بھائی ایک دن اسکول جاتا اور اوربہن اپنی شیرخوار بہن کی دیکھ بھال کرتی۔ دوسرے دن بہن اسکول جاتی اور بھائی دیکھ بھال کرتا۔

یہ کویت میں رہنے والے ایک مصری جوڑے کی سچی کہانی ہے۔ اور اس کی تفصیلات کویتی ذرائع ابلاغ اور دیگر عرب پریس میں بھی شائع ہوئی ہیں۔

کویت میں مقیم مصری خاندان آہستہ آہستہ اس وقت ٹوٹنے لگا جب مالی مسائل کی وجہ سے میاں بیوی کے اختلافات اور رنجشیں لڑائی جھگڑے میں بدلنے لگیں۔

مقامی میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کویت میں مقیم مصری خاندان کی ایک بچی نے پولیس کو فون پر بتایا کہ وہ چھ بہن بھائی ہیں اور ان کے والدین انہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ وہ بھوکے ہیں اور کئی دنوں سے ان ک پاس کھانے کو کچھ نہیں۔

ذرائع نے ’الانبا‘ اخبار کو بتایا کہ چھ بچوں کی فوری دیکھ بھال کی گئی، انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور کھانا فراہم کیا گیا۔ کمیونٹی پولیس کو جو بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے کو مطلع کیا گیا۔ پولیس نےبچوں کے باپ کو طلب کیا۔ پولیس کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور وہ مالی مسائل کا شکار ہے۔ اس کے نتیجے میں بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا جس کی وجہ سے اسے 4 ماہ قبل گھر چھوڑ کرایک دوست کے ہاں رہائش اختیار کرنا پڑی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے بچوں کے اخراجات کا پابند ہے اور ٹیوشن فیس ادا کرتا ہے بس کا کرایہ بھی ادا کرتا ہے۔

اپنی بیوی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ اب بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے قابل نہیں رہی اور اس کے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ اپنے دوست کے پاس رہنے چلی گئی۔

ذریعےنے مزید کہا کہ دونوں بچوں کے بیانات سنے گئے، جنہوں نے کہا کہ وہ باری باری اپنی شیر خوار بہن کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ایک دن ایک بچہ اسکول جاتا ہے اور دوسرا چھٹی کرتا ہے۔

میاں بیوی کے خلاف نابالغ کی دیکھ بھال میں لاپرواہی کے عنوان سے مقدمہ درج کیا گیا اورنائب وزیراعظم الشیخ طلال الخالد کو رپورٹ پیش کی گئی، جنہوں نے میاں بیوی اور چھ بچوں کی حالت زار کو دیکھ کر ان کی عارضی رہائش کا حکم دیا ہے جس کے بعد انہیں ان کے ملک واپس بھیجنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

’الانبا‘ کے مطابق شوہر کی پیدائش 1981 میں اور بیوی کی پیدائش 1985 میں ہوئی اوران کے 6 بچے جن میں سے 4 بچیاں ہیں جن کی پیدائش بہ تدریج 2011، 2016، 2019 اور 2023 کی ہےجب کہ دو بچے 2009 اور 2020 میں پیدا ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں