جان پر کھیل کر سمندر میں ڈوبتے باپ اور بچوں کو ڈوبنے بچانے والا سعودی شہری ہیرو قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک نوجوان کی بہادری کی دھوم مچی ہے جس نے مشرقی سعودی عرب کے جبیل صنعتی شہر میں اپنی جان کی پراوہ کیے بغیر ایک باپ اور تین بچوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا۔

نوجوان سالم الشمری نے ڈوبتے باپ اور بچوں کو بچانے کے لیے خود سمندر کے گہرے گڑھے میں چھلانگ لگا اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔جس کے لیے سوشل میڈیا پر ان کے لیے ستائشی ہیش ٹیگ چلائے گئے ، اور انہیں ہیرو قرار دیا گیا۔

سالم نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض اتفاق تھا کہ اس روز وہ اپنے خاندان کے ساتھ سمندر کے کنارے، والد کے خاندان اور اس کے بچوں کے ساتھ موجود تھے جب انہوں نے دیکھا کہ سمندر میں ایک شخص اور بچے ایک گڑھے میں جا گرے اور وہ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سیر کے لیے آئے خاندان کے سربراہ اور بچے نے تیراکی کے لیے سمندر میں اترے تھے، اور وہ ساحل سے زیادہ دور نہیں گئے تھے ، جب کچھ ہی لمحے بعد وہ گہرے سمندر کے ایک گڑھے میں جا گرے، باپ نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن یہ بے سود رہی۔ اس دوران سالم نے ایک بچے کو چیختے اور مدد کے لیے پکارتے سنا۔
"اس وقت میں نے کچھ اور سوچا نہیں اور فوراً سمندر میں کود گیا، اور میں باپ کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا ۔ بچے کو جو وہ اس سے چمٹے ہوئے تھے۔"

سالم نے کہا کہ کوشش کرتے کرتے آخر میں جب وہ گڑھے کے کنارے تک پہنچے تو شدید تھک چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ " میں اس مقام پر رک گیا ۔۔۔ مگر ایک بچہ ابھی تک مجھ سے چمٹا ہوا تھا اور اس بات نے مجھے مزید تیرنے کے لیے ہمت دی۔ میں نے اپنی پوری طاقت لگا کر انہیں باہر نکالا۔"

جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے بارڈر فورس اور ہلال احمر کو اطلاع دی اور متعلقہ حکام نے ریسکیو آپریشن کی پیروی کی۔

سالم نے بتایا کہ حادثے میں محفوظ رہنے والے خاندان نے ان کا بے حد شکریہ ادا کیا اور ان کے اعزاز میں ایک محفل کا انعقاد کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں