‘اسرائیلی فوج نے حالات ایسے پیدا کیے کہ بستی میں رہنا ناممکن ہوگیا‘

میٹھے پانی کے چشموں والا فلسطینی "عین سامیہ" گاؤں اسرائیلیفوج نے کیسے جہنم بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فلسطین میں بسنے والے شہریوں کو آئے روز اسرائیل کے انتقامی حربوں اور نسلی تطہیر کے ہتھکنڈوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ انہیں کبھی اپنی قیمتی زمینوں سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں اور کبھی گھر بار چھوڑنے پرمجبور کیا جاتا ہے۔ ظلم صرف یہیں تک ختم نہیں ہوتا بلکہ معصوم فلسطینی آئے روزاسرائیلی فوج کی بربریت کا نشانہ بن کر اپنی جانوں کےنذرانے دینے پربھی مجبور ہیں۔

ابو نجاح الکعابنہ ان 200 سے زائد لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیلی قابض فوج نے رام اللہ کے مشرق میں واقع ’عین سامیہ‘ کمیونٹی میں اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس اقدام کو فلسطینیوں اور اسرائیلی انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں نے "نسلی تطہیر" قرار دیا۔

اگرچہ اسرائیل نے بدو کمیونٹی سے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا کام نہیں کیا۔ یہ علاقہ پانی کے چشموں سے مالا مال ہے اور بہار کےموسم میں اس کے چشمے زیادہ ابل پڑتے ہیں لیکن اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کےلیے "بے دخلی والے حالات" پیدا کر دیے جس کی وجہ سے ان کے پاس اس جگہ کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا جہاں وہ 40 سال سے مقیم تھے۔ گلہ بانی اور مال مویشی پالنے والوں کے لیے یہ بہترین جگہ ہے مگر اسرائیلی فوج نے وہاں بھی انہیں نہ رہنے دیا۔

چشموں کا گھیراؤ

یہ کمیونٹی مغربی کنارے کے مشرقی ڈھلوان پر واقع ہے جو وادی اردن سامنے ہے اور اسے 250 بدو کمیونٹیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جنہیں اسرائیلی حکام "سکیورٹی اور آبادکاری کی وجوہات" کی بنا پر خالی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

برسوں سے یہودی آباد کار چرواہے چراگاہوں اور پانی کے چشموں کے کنٹرول کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔

کمیونٹی کے مکینوں نے اسے خالی کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس میں رہنا "آباد کاروں کے حملوں اور اسرائیلی فوج کے ان کے لیے اسے خالی کرنے کے احکامات کی وجہ سے ناقابل برداشت ہو گیا کیونکہ یہ علاقہ C میں واقع ہے۔"

ان حملوں میں سے آخری حملہ کمیونٹی پر درجنوں آباد کاروں کا حملہ تھا۔ اس حملے میں مقامی فلسطینیوں کے درجنوں مویشی قبضے میں لے لیے گئے اور یہ دعویٰ کہا کہ اس کمیونٹی کے ایک رہائشی نے آباد کاروں کے مویشی چرا لیے تھے۔ حالانکہ یہ محض ایک سفید جھوٹ تھا۔

اس سے قبل اسرائیلی عدالتوں کی جانب سے کمیونٹی کو خالی کرنے اور اس میں موجود واحد اسکول کو منہدم کرنے کے متعدد فیصلے ہوچکے ہیں تاہم یورپی یونین کے مالک کی طرف سے عطیہ کردہ اراضی پر تعمیر کرنے میں تعاون کیا تھا۔

ابو نجاح نے "انڈیپینڈنٹ عربیہ" کو انٹرویو کے دوران شکایت کی کہ "اسرائیلی فوج کی حفاظت میں آباد کاروں کے بار بار حملوں کی وجہ سے کمیونٹی میں صورتحال اب قابل برداشت نہیں رہی۔"

ان کا کہنا تھا کہ ان کے ٹین کے گھر کو فوج نے ایک سے زیادہ بار گرایا اور ہر بار اسے دوبارہ بنایا گیا۔

جبری نقل مکانی

ابو نجاح رام اللہ کے مشرق میں ابو الفلاح نامی گاؤں میں زمین کے ایک قطعے میں رہنے کے لیے منتقل ہو گیا۔ اسے امید ہے وہ زندگی کا ایک نیا سفر شروع کرے گا جس میں اس کے مویشیوں کے لیے چراگاہیں اور پانی دستیاب ہو گا۔

ابو نجاح پچھلی صدی کے اسی کی دہائی کے آغاز سے عین سامیہ میں درجنوں بدوؤں کے ساتھ رہتے تھے جب اسرائیل نے انہیں ایک اور کمیونٹی کو نکالنے پر مجبور کیا جس میں وہ مقیم تھے۔اس سے قبل وہ عین سامیہ کے قریب الطیبیہ گاؤں کے مشرق میں مقیم تھے۔

اسرائیل کی طرف سے 1969 میں اریحا کے قریب العوجا گاؤں سے بے دخل کیے جانے کے بعد انھوں نے الطیبہ میں پناہ لی تھی۔ ابونجاح کی پیدائش بھی وہیں کی ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیٹی میں دستاویزی اور اشاعت کے ڈائریکٹر جنرل امیر داؤد سمجھتے ہیں کہ کمیونٹی کے انخلاء کا مقصد "مغربی کنارے کی مشرقی ڈھلوانوں کو خالی کرنا ہے، جو ایالون اسٹریٹ کے مشرق میں واقع ہے۔"

داؤد نے "دی انڈیپنڈنٹ عربیہ" کو بتایا کہ بہ ظاہر یہ اقدام "سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے لیکن در پردہ اس کا مقصد اس علاقے میں پہلے سے قائم کی گئی یہودی کالونیوں کووسعت دینا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ عین سامیہ کمیونٹی میں جو سب سے خطرناک چیز پیش آئی وہ اس کے باشندوں کے لیے بے دخلی کے ماحول کی تخلیق تھی جس نے انہیں وہاں سے جانے پر مجبور کیا۔ فوج نے زبردستی نہیں نکالا مگر حالات ایسے بنائے کہ مکینوں کو قصبہ خالی کرنا پڑا۔

داؤد نے وضاحت کی کہ اسرائیل "ایریا C میں مکانات کی تعمیر پرکنٹرول کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ فلسطینیوں کو مکانات تعمیر کرنے کی اجازت نہیں، اگر کوئی تعمیر کرے تو اسےگرادیا جاتا ہے۔

اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم B'Tselem اس نے عین سامیہ کمیونٹی کی بے دخلی کو ایک "جنگی جرم" اور جبری نقل مکانی قرار دیا جس کا مقصد "اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی مزید زمینوں پر قبضہ کرنا ہے تاکہ انہیں یہودیوں کی خدمت میں رکھا جا سکے۔ "

دوسری جانب یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے مکانات کی ضبطی اور مسماری کو روکے اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ یونین کی طرف سے عطیہ کیے گئے اور اسرائیل کی طرف سے تباہ کی گئی املاک بحال کرے یا معاوضہ ادا کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں