اردن کے ولی عہد حسین اور رجوہ آل سیف کی شادی کی تفصیلات سامنے آگئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردن کے ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم اور سعودی دوشیزہ رجوہ آل سیف کی انتہائی متوقع شادی بالآخر قریب آگئی ہے۔ یہ شادی اردن سمیت پورے خطے اور دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اردن اور دنیا بھر سے مختلف معزز شخصیات کی جانب سے شہزادہ حسین کے لیے اپنی زندگی کے نئے سفر کے آغاز پر پرتپاک خواہشات اور مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مستقبل کے حکمران شہزادہ حسین کی اہمیت کے پیش نظر یہ خاص موقع شاہی خاندان اور اردن کے لوگوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

شاہی شادی کی تاریخ

شہزادہ حسین کی شادی جمعرات یکم جون کو ہوگی جس کی لائیو کوریج شام 4:00 بجے شروع ہوگی۔

اس تقریب میں دنیا بھر سے معزز مہمان، سربراہان مملکت، سیاسی و سفارتی شخصیات اور قریبی دوست اور شاہی خاندانوں کے افراد شرکت کریں گے۔

شادی کا مقام

اردن کے دربار شاہی کے اعلان کے مطابق شادی کی تقریب زہران پیلس میں ہوگی۔

1957 میں تعمیر ہونے والا یہ ممتاز محل ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ کسی زمانے میں شاہ حسین بن طلال کی والدہ مرحوم ملکہ زین الشرف کی رہائش گاہ تھا۔

زہران پیلس
زہران پیلس

اردن کے شاہی خاندان کے لیے ایک پسندیدہ رہائشی مقام کے علاوہ، زہران محل میں متعدد اہم شاہی شادیاں ہوئی ہیں۔ شاہ عبداللہ دوم اور مرحوم شاہ حسین بن طلال کی شادی کی تقریب بھی اسی محل میں منعقد ہوئی تھی۔

تقریب کے بعد، مہمانوں کو روایتی "سرخ جلوس" کی ہمراہی میں الحسینیہ پیلس تک لے جایا جائے گا۔ جہاں شاہی انداز میں شاندار استقبالیہ اور پرتکلف عشائیہ پیش کیا جائے گا۔

سرخ جلوس کی روایت

اردن کے شاہی پروٹوکول کے مطابق شادی کی تقریب میں "سرخ جلوس" نکالا جائے گا۔

"سرخ جلوس" اردن کے دارالحکومت عمان میں قصر زہران سے قصر الحسینیہ تک گلیوں میں گھومے گا جہاں ہزاروں اردنی شہری جلوس کے راستے میں شادی کا جشن منائیں گے۔

یہ جلوس 20 لینڈ روور کاروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کاروں میں سے 14 جلوس میں شریک اور 6 ریزرو کاریں ہوتی ہیں۔ 10 موٹر سائیکلیں بھی جلوس میں شامل ہوتی ہیں۔

اردنی ولی عہد حسین بن عبداللہ اور ان کی سعودی منگیتر رجوہ
اردنی ولی عہد حسین بن عبداللہ اور ان کی سعودی منگیتر رجوہ

آغاز میں یہ جلوس رائل گارڈ کے 71 ارکان نے نکالا تھا جو خوبصورت سفید گھوڑوں پہ سوار ہوتے تھے۔ بعد میں گھوڑوں کی جگہ موٹر سائیکلوں نے لے لی۔ یہ سپاہی رسمی یونیفارم پہنتے ہیں جس کے سینے پر سرخ پٹیاں ہوتی ہیں۔

سرخ جلوس کی اس شاندار روایت کی جڑیں 25 مئی 1946 کو اپنی آزادی کے بعد اردن کے قیام سے ملتی ہیں۔ اسے سرکاری ہاشمی جلوس ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جو اہم تقریبات اور سفارتی استقبالیہ کے دوران بادشاہوں کے ساتھ جاتا ہے۔

رجوہ آل سیف: اردن کے ولی عہد کی منگیتر

28 اپریل 1994 کو ریاض میں پیدا ہونے والی رجوہ خالد بن مساعد السیف کا تعلق سعودی عرب کے ایک ممتاز خاندان سے ہے جس کی جڑیں سبا قبیلے سے ملتی ہیں۔

شاہ عبدالعزیز آل سعود کے دور سے ہی ان کا خاندان سعودی عرب کے وسطی علاقے نجد میں واقع سدیر کے شہر العطار میں مشہور اور معزز سمجھا جاتا ہے۔

ان کے والد آل سیف انجینئرنگ کنسلٹنٹس کے نام سے ایک معروف کمپنی کے مالک ہیں۔

رجوہ ال سیف اور اردن کی ملکہ رانیہ
رجوہ ال سیف اور اردن کی ملکہ رانیہ

رجوہ چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کے دیگر بہن بھائیوں میں فیصل، نائف اور دانا شامل ہیں۔ جبکہ ان کی والدہ عزہ بنت نائف بن عبدالعزیز آل احمد السدیری ہیں۔

رجوہ نے سعودی عرب میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نیویارک کی سائراکیز یونیورسٹی میں فن تعمیر میں ڈگری حاصل کی۔

اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن اینڈ مرچنڈائزنگ سے بصری مواصلات میں پیشہ ورانہ ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

انہیں عربی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ وہ گھڑ سواری میں مہارت رکھتی ہے اور ڈرائنگ اور آرٹ سے خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔

رجوہ آل سیف اپنے منفرد ثقافتی پس منظر، متنوع صلاحیتوں اور وسیع علم کی وجہ سے مستقبل کی ملکہ اردن کے طور پر شاہی ذمہ داریوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہیں۔

منگنی کی کہانی

ان کے ملنے کی کہانی اس وقت سامنے آئی جب ولی عہد نے اعتراف کیا کہ وہ ایک خاص موقع پر ایک باہمی دوست کے ذریعے ملے تھے۔

رجوہ نے ایک دیرپا پہلا تاثر قائم کیا اور بالآخر شہزادہ حسین شادی کی درخواست پیش کرنے پہ مجبور ہوگئے۔

شاہی دربار نے ان کی منگنی کا باضابطہ اعلان 17 اگست 2022 کو سعودی عرب میں ان کے خاندان کی ریاض رہائش گاہ پر منعقدہ ایک تقریب میں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں