لبنان میں فلسطینیوں کے ٹھکانے میں دھماکہ، پانچ افراد جاں بحق: سکیورٹی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق شام اور فلسطین نواز عسکری گروپ کے پانچ جنگجو بدھ کے روز ہونے والے ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثاتی دھماکہ مشرقی لبنان میں تنظیم کی ٹھکانے میں ہوا۔

عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی جنرل کمان کے ترجمان نے الزام عاید کیا ہے کہ یہ دھماکہ حادثہ نہیں بلکہ شامی سرحد کے قریب قصيہ کے علاقے میں گذشتہ شب چھاپہ مار کارروائی کے دوران کی جانے والی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ اسرائیل نے اس چھاپے میں اپنی شرکت سے متعلق خبروں کی صحت سے انکار کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کو معلوم فراہم کی مینڈیٹ نہ رکھنے والے سکیورٹی ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’اسلحہ ڈپو میں ایک پرانا راکٹ پھٹنے سے مزاحمت کاروں کے ٹھکانے میں زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

شام میں موجود تنظیم کے بشار الاسد حکومت اور ان کے لبنانی اتحادی حزب اللہ سے قریبی روابط ہیں۔ تنظیم کی لبنان کے علاقے وادی بعقہ میں ٹھکانے بھی موجود ہیں۔ جنرل کمان پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین کے ترجمان انور راجہ نے بتایا کہ ٹھکانے پر اسرائیل نے کل رات حملہ کیا تھا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کارروائی میں پانچ جنگجو ہلاک ہوئے، اس کے علاوہ انہوں نے چھاپے کی کوئی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔ اسرائیلی فوج نے تاہم ہلاکت خیز دھماکے میں ملوث ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ فوج کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’یہ اسرائیلی فوج کی کارروائی نہیں۔‘‘

یاد رہے کہ 2019 میں مشتبہ اسرائیلی حملوں میں عمومی کمان برائے عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے قصيہ چیپٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جولائی 2015 میں بھی تنظیم کی قصيہ بیس میں ہونے والے دھماکے میں سات افراد زخمی ہوئے جبکہ فلسطینی تنظیم نے اس حملے کا الزام اسرائیلی فضائی حملے پر لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں