فلم "العرضہ النجدیہ" کو ثقافتی سینما کے انداز میں تیار کیا ہے: ہدایت کار

فیصل العتیبی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے انٹرویو میں فلم بنانے میں درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی ہدایت کار فیصل العتیبی دستاویزی فلموں کے شعبے میں 20 سال کے اپنے جمع تجربے کی بدولت دستاویزی فلموں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے مقامی، خلیجی اور عرب ملکوں کی سطح کے تہواروں اور کچھ عالمی تہواروں میں 12 سے زائد ایوارڈز جیتے ہیں۔ ٹیلی ویژن دستاویزی فلموں کے میدان میں ان کے کاموں کی عمدگی کو سراہا جاتا ہے۔

ہدایت کار فیصل العتیبی نے اپنی فلم ’’ العرضیہ النجدییہ‘‘ کے حوالے سے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں اس فلم کے آئیڈیا کے بارے میں بات کی۔ اس فلم کے لیے انھوں نے بہترین سعودی شہر کا تویق ماؤنٹین ایوارڈ جیتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ "فلم العرضیہ النجدیہ کا خیال یا اس شہر سے متعلق فلم بنانے کی خواہش وزارت ثقافت کی طرف سے آئی تھی۔ یہ ایک خاص خیال تھا اسے دو مصنفین کے ساتھ لکھا اور تیار کیا گیا اور پھر ہم اعلی ترین معیارات کے ساتھ ایک دستاویزی فلم تیار کرنے کے لیے حتمی شکل تک پہنچ گئے۔ تاکہ اسے تمام دلچسپی رکھنے والے ماہرین، نوجوان نسل اور غیر ملکی سامعین کے سامنے پیش کیا جا سکے اور نجد کو اس کے تمام بنیادی اجزاء سے متعارف کرایا جا سکے۔ اس کی ابتدا اور اتحاد کی جنگوں میں اس کے کردار کا تعارف کرایا جائے۔ نجد میں لڑائیوں سے پہلے اور فتح کے بعد انجام دیے جانے والے کاموں کا تعارف کرایا جائے۔

العرضة النجدية فلم
العرضة النجدية فلم

العتیبی نے مزید کہا کہ ہمیں جس چیلنج کا سامنا کرنا پڑا وہ یہ تھا کہ فلم کو ایک خوبصورت سنیمیٹک بیانیہ کے انداز میں کیسے پیش کیا جائے۔ یہ ایسی حتمی شکل ہو جو ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ اس لیے بینڈ کے کچھ ارکان کی کہانی پر کام کیا گیا۔ کچھ مناظر کو ڈیکو ڈرامہ کے انداز میں دوبارہ مجسم کیا گیا۔ سب سے نمایاں کام تاریخی اور سریلی پہلوؤں سے گزرنا تھا۔ اسی طرح نظموں کی کہانی، لباس، ہتھیار، لوازمات، ڈرم اور تال میں ان کا کردار نمایاں کیا گیا۔

انہوں نے کہا اس کو ایک فنکارانہ لڑی کے ساتھ ترتیب دینا بہت بڑا چیلنج تھا جس سے ناظرین لطف اندوز ہوں اور اس کے ذریعے اپنے وطن کے ورثے کو جان سکیں۔ ہماری کامیابی سعودی فلم فیسٹیول جیتنے پر منتج ہوئی۔ اس فیسٹول کا انعقاد

فلم سوسائٹی نے کنگ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر (اثراء) کی شراکت داری اور وزارت ثقافت کی فلم اتھارٹی کے تعاون سے کیا ہے۔

فیصل عتیبی نے بتایا کہ فلم کی تیاری میں 10 ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا اور تقریباً 80 لوگوں نے اس میں حصہ لیا جن میں ایک اداکار اور تکنیکی عملہ بھی شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں