شمالی اسرائیل کے باشندوں کو جنگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کے کچھ شمالی قصبوں میں تقسیم کیے گئے ایک پمفلٹ نے شہری آبادی، خاص طور پر شمالی سرحد سے متصل قصبوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ کتابچہ جنگ کے منظر نامے کی وضاحت کرتا ہے کہ فوج ان دنوں "کرشنگ فسٹ " کے نام سے مشقیں کررہی ہے اوریہ مشقیں کسی جنگ میں بدل سکتی ہیں۔ جنگ چھڑنے کی صورت میں رہائشیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ گھر خالی کر دیں اور جلد از جلد شہر چھوڑ دیں، کیونکہ سڑکیں مختصر مدت میں بند ہو جائیں گی۔ بڑے پیمانے پر راکٹ گرنے کا خدشہ ہو سکتا ہے جس کے بعد نقل وحرکت ممکن نہیں رہے گی۔

شمالی سرحدیں

ماہرین نے جنگ شروع ہونے کوامکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری طرف شہریوں میں تقسیم کیے گئے پمفلٹ میں مطلوبہ ضروریات کی ایک فہرست شامل کی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ "آپ کوخوراک کی اتنی مقدار ذخیرہ کرنا چاہیے جو پناہ گاہوں کے اندر آپ کے لیے طویل عرصے کے لیے کافی ہوں، کیونکہ کسی صورت حال میں متوقع جنگ سخت ہوگی اور طویل عرصے تک جاری رہے گی۔"

خوف و ہراس کی کیفیت صرف شمالی قصبوں کے مکینوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ دوسرے علاقوں میں بھی اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہدایت نامے فوج کے ہتھکنڈوں کا حصہ ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا فوج محض بے چینی اور خوف کی کیفیت پیدا کر رہی ہے یا واقعی ایسا کوئی خطرہ ہے۔ شہری اس حوالے متذبذب ہیں۔ پچھلے دنوں شمالی علاقہ مجد سے کریات شمونہ تک جنگی طیاروں کی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔

اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے چینل 14 نے اس معاملے پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شمال میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ابتدائی طور پر یہ کتابچہ دیوارفاصل سے ملحقہ قصبوں میں سے ایک میں تقسیم کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج اور سکیورٹی سروسز کے اندازوں کے مطابق شمالی محاذ پر جنگ سخت اور طویل ہو گی۔"

اس کتابچے کی ایک کاپی جو شمال کے رہائشیوں میں تقسیم کی گئی ہے
اس کتابچے کی ایک کاپی جو شمال کے رہائشیوں میں تقسیم کی گئی ہے

اسرائیلی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "شام کی سرحد کے قریب لبنانی سرزمین میں ہونے والے پراسرار دھماکے نے شمال میں کشیدگی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کشیدگی مزید بلندی تک جاری رہے گی۔"

چینل کے عسکری نامہ نگار ہلیل روزن نے کہا کہ "اس کتابچے کو تقسیم کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ شمالی علاقہ جنگ کی تیاری کے عروج پر ہے۔ فرنٹ لائن پر موجود علاقے کے کچھ باشندوں کو واضح طور پر پمفلٹ موصول ہوا ہے کہ فوج اور سکیورٹی سروسز کے جائزے بتاتے ہیں کہ اگر شمالی سرحدوں پر جنگ چھڑ جاتی ہے تو یہ 2006ء کی لبنان کی جنگ سے کہیں زیادہ سخت ہوگی ۔"

"لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران وہ طویل عرصے تک پناہ گاہوں میں رہیں گے، انہیں وہاں سے نکلنے کا تقریباً کوئی اختیار نہیں ہوگی۔ اس میں تھوڑا سا وقت ہو سکتا ہے، ملک چھوڑنا ممکن ہے کیونکہ اس کے بعد سڑکیں بند ہو جائیں گی"۔

عسکری نامہ نگار کے مطابق اسی طرح کے کتابچے کریات شمونہ سمیت دیگر قصبوں میں بھی تقسیم کیے گئے اور انھوں نے اشارہ دیا کہ مقامی حکام سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کیا کر رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سرکلر میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ موصول ہونے والی تمام معلومات اور ہدایات سکیورٹی سروسز کی مشاورت اور منظوری کے بعد آئی ہیں۔

رہائشیوں کی تیاری کے رہنما خطوط کے ایک حصے کے طور پر سرکلر میں ان ضروری ضروریات کی فہرست شامل ہے جو انہیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس فہرست میں ادویات، خوراک، پانی، اور بجلی کی بندش کی صورت میں روشنی کے آلات ساتھ رکھنے کے علاوہ سرکلر میں یہ ہدایات بھی شامل ہیں کہ کب گھروں کو چھوڑنا ہوگا۔

پمفلٹ کے آخر میں، مکینوں کو بتایا گیا کہ وہ جنگ کی صورت میں گھروں کے دروازوں پر یا نظر آنے والی جگہوں پر لٹکانے کے لیے بعد میں مختلف بینرز وصول کریں گے تاکہ ہوم فرنٹ اور سالویشن آرمی کو معلوم ہو سکے کہ آیا مکان مکینوں سے خالی تھا یا نہیں اس صورت میں کہ اسے میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس میں "نیبرہڈ گروپس" کا قیام اور ہر گروپ کے لیے ایک ذمہ دار شخص کی تقرری کا بھی کہا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں