سیز فائر خاتمے کے باوجود متحارب فریق جدہ میں موجود ہیں: سعودی وزارت خارجہ

سعودی عرب کا سوڈان کے متحارب فریقوں سے نئی جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کی مسلح افواج اور سریع الحرکت فورسز [آر ایس ایف] کے درمیان مختصر مدت کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سعودی عرب نے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی معطلی کے باوجود جنگ بندی کی تجدید کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مملکت اور امریکا دونوں متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کی سرپرستی کر رہے ہیں اور دونوں ملٹری فورسز کے نمائندوں کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔

’’ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد تک رسائی میں آسانی پیدا کرنے کی ضرورت اور بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے دونوں فریقوں سے مطالبہ کر رہے ہیں وہ جنگ بندی کی تجدید کریں تاکہ تنازع کا پرامن حل نکانے کی کوشش کی جا سکے۔‘‘

بات چیت کی معطلی

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ جدہ سوڈانی فریقین کے درمیان مذاکرات کی معطلی کے باوجود فوج اور ریپڈ سپورٹ کے وفود جدہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے دونوں فریقوں کو جدہ اعلامیہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی ضرورت کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ دونوں فریقین 11 مئی کو طے پائے جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت سعودی عرب اور امریکا سوڈانی عوام کے ساتھ اپنی وابستگی پر قائم ہیں۔

جدہ میں سوڈان میں جنگ بندی پر دستخط (ٹوئٹر پر سعودی وزارت خارجہ کے اکاؤنٹ سے)
جدہ میں سوڈان میں جنگ بندی پر دستخط (ٹوئٹر پر سعودی وزارت خارجہ کے اکاؤنٹ سے)

سعودی عرب اور امریکا دونوں نے اس ماہ کے شروع میں (1 جون 2023) ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ سوڈان میں اپریل کے وسط سے جاری تنازع پر دونوں فریقوں کے درمیان جدہ مذاکرات کو معطل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ بار بار فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز دونوں کی طرف سے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیاں بتائی جاتی ہیں۔ دونوں متحارب فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عاید کرتے ہیں۔

وزرات خارجہ نے زور دیا کہ اگر دونوں فریق اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرتے ہیں تو ہم بات چیت دوبارہ شروع کرنے اور اس کی سرپرستی کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ وسط اپریل سے سوڈان میں فوج کے دو گروپوں میں لڑائی کے بعد اب تک دونون فریق 12 مرتبہ جنگ بندی کا اعلان کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں