اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک مصری اہلکار سپرد خاک، جنازے میں چند افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہفتے کی شام مصر اور اسرائیل کی سرحد پر ایک جھڑپ میں مارے جانے والے مصری بارڈر پولیس اہلکار کی میت ورثاء کے حوالے کیے جانے کے بعد محمد صلاح کو آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مقتول مصری اہلکار کی نعش اس کے ورثاء کے حوالے کیے جانے کے بعد سوموار کے روز شمالی مصر کی قلیوبیہ گورنری میں اسے دفن کیا گیا۔ مقتول کی نماز جنازہ میں چند افراد نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز سرحد پر جھڑپ کے دوران مصری اہلکار کی فائرنگ سے تین اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ جوابی فائرنگ میں مصری سکیورٹی اہلکار بھی مارا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے مقتول مصری اہلکار کی لاش قبضے میں لے لی تھی جسے سوموار کی صبح اس کے ورثاء کے حوالے کیا گیا جہاں اس کے خاندان کے چند افراد کی موجودگی میں العمار گاؤں کے قبرستان میں اس کی تدفین کی گئی۔ اس موقعے پر مقتول اہلکار کے لواحقین کو سختی کے ساتھ مقامی، عرب اور عالمی میڈیا کے ساتھ بات چیت سے منع کیا گیا تھا۔

تیئس سالہ سپاہی محمد صلاح ابراہیم کا نام سامنے آنے کے بعد اس کی تصاویر زیادہ تر اس کے سوشل میڈیا بشمول فیس بک اکاؤنٹ سے لی گئی ہیں۔

اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ صلاح محمد ابراہیم ایک معتدل نوجوان تھا اور اس کی کبھی کسی قسم کی سیاسی یا مذہبی وابستگی نہیں دیکھی گئی۔

بڑھئی کے پیشے سے منسلک

معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والا فوجی قاہرہ کے مشرق میں عین شمس کے علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں اپنی والدہ اور دو بھائیوں پر مشتمل اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم تھا اور وہ اپنی کفالت کے لیے جز وقتی بڑھئی کا کام کرتا تھا۔ اس کا والد ایک ٹریفک حادثے میں وفات پا چکا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی اور صرف تیاری کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

اس کے علاوہ ان کے فیس بک اکاؤنٹ سے کچھ کمنٹس میں فلسطین سے ان کی محبت کا اظہار کیا گیا۔ اس نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ "خدا فلسطین کے ساتھ ہے"۔ اس کی یہ پوسٹ سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس کی جانب سے اسرائیل کے لیے حمایت کے جواب میں پوسٹ کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مصر اور اسرائیل کےدرمیان سرحد عموما پرامن ہی رہتی ہے اور سرحد پر شاذ ونادر ہی کسی قسم کی کشیدگی یا پرتشدد واقعہ ہوتا ہے۔ مصری فوج کا کہنا ہے کہ دو روز قبل اسرائیل کی سرحد پر پیش آنے والے واقعے کے وقت فوج منشیات کے اسمگلروں کا تعاقب کر رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں