اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کا خصوصی اجلاس زیر زمین منعقد

اسرائیل پر ایک ساتھ کئی محاذوں پر حملوں کے امکان کا جواب دینے کے لیے بھی پر عزم ہیں: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے کئی محاذوں پر ممکنہ جنگ کے دوران فیصلہ سازی کے لیے زیر زمین کمانڈ روم میں اپنی سکیورٹی کابینہ کا ایک نادر اجلاس منعقد کیا۔

یہ اقدام نیتن یاہو کی جانب سے اقوام متحدہ کے انسپکٹرز پر ایران کا مقابلہ کرنے میں غفلت برتنے کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایران کی جانب سے یورینیم کو 60 فیصد کی خالصیت تک افزودہ کرنے کے ساتھ اگر بین الاقوامی سفارت کاری ایران کو روکنے میں ناکام ہوتی ہے تو اسرائیل نے قبل از وقت فوجی حملوں کی دھمکیاں بڑھا دی ہیں۔

یاد رہے اگر پاکیزگی میں اضافہ کیا جائے تو 60 فیصد تک یورینیم افزودگی دو جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے تاہم ایران نے جوہری بم بنانے کی خواہش یا منصوبہ بندی سے انکار کیا ہے۔

اسرائیل نے ہمیشہ زور دیتا آیا ہے کہ سفارت کاری کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ایران کو قابل اعتماد فوجی خطرات کا سامنا کرنا پڑے۔

نیتن یاہو نے تل ابیب میں فوجی ہیڈ کوارٹرز میں آپریشنز کمانڈ کے بنکر روم سے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہم ایران کی جوہری کوششوں کے خلاف ہیں اور اسرائیل پر میزائل حملوں اور کئی محاذوں کو ایک ہی وقت میں کھولنے کے امکانات کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

دوران اجلاس سکیورٹی وزراء اور فوجی رہنماؤں میں گھرے ہوئے نیتن یاھو نے مزید کہا کہ کثیر محاذ جنگ میں داخل ہونے کے امکانات کے لیے اسرائیلی رہنماؤں کو اپنے بڑے فیصلوں کے متعلق پہلے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے جنگ کے دوران فیصلہ سازی کی تیاری کے لیے سکیورٹی کابینہ کو تربیت دینے کے لیے فوٹیج جاری کی ہے۔

واضح رہے اس سے قبل نیتن یاہو نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی پر ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک سیاسی ادارہ بننے کا خطرہ موجود ہے اور اس ادارہ کی اہمیت ختم ہو رہی ہے۔

غیر معمولی تنقید گزشتہ ہفتے آئی اے ای اے کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی تھی جس میں تجویز کیا گیا تھا کہ ایران نے مشتبہ یورینیم کے ذرات کی دریافت پر تسلی بخش جواب دیا ہے اور 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر نصب کیے گئے کچھ مانیٹرنگ آلات کو دوبارہ انسٹال کر دیا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سامنے جھوٹ بول رہا ہے۔ ایرانی دباؤ پر ایجنسی کی رضامندی اس کے ریکارڈ پر ایک داغ ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ابھی تک تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں