تیل کی پیداوار میں کمی ایک ’احتیاطی‘ اقدام ہے: سعودی عرب

مارکیٹ میں واضح استحکام نظر آنے تک احتیاطی تدابیر جاری رکھیں گے: وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ’العربیہ‘ کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کا اضافی تیل کی سپلائی میں رضا کارانہ کٹوتی کا فیصلہ ایک "احتیاطی" اقدام کے طور پر ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی عرب نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ وہ جولائی میں پیداوار میں کمی کرے گا۔ شہزادہ عبدالعزیز نے اوپیک پلس اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ریاض کی طرف سے یومیہ ایک ملین بیرل فی یوم کی کٹوتی کو جولائی سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے اعلان کے بعد العربیہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہم اس وقت تک احتیاطی تدابیر جاری رکھیں گے جب تک کہ ہمیں مارکیٹ میں واضح استحکام نظر نہیں آجاتا۔ ہمارا مشن تیل کی مارکیٹ کو واضح اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرنا ہے تاکہ استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

فیصلے کے مطابق سعودی عرب کی پیداوار مئی میں تقریباً 10 ملین بیرل فی یوم سے کم ہو کر جولائی میں 9 ملین بیرل یومیہ رہ جائے گی۔

اوپیک پلس پیٹرولیم برآمد کرنے والے ملکوں اور روس کی قیادت میں اتحادیوں کی تنظیم ہے۔ یہ گروپ سات گھنٹے کی بات چیت کے بعد آؤٹ پٹ پالیسی پر ایک معاہدہ تک پہنچ گیا اور اس نے 2024 سے مجموعی پیداواری اہداف کو مزید 1.4ملین بیرل یومیہ تک کم کرنے کا فیصلہ کیا۔

شہزادہ عبدالعزیز نے ’العربیہ‘ کو یہ بھی بتایا کہ آزاد پارٹیاں بھی 2024 کی اپنی پیداوار کا جائزہ لینے کے حوالے سے اوپیک پلس ملکوں کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد پارٹیاں اور اوپیک پلس میں پیداوار کے اعداد و شمار کے بارے میں گذشتہ تنازع کو ختم کر دیا جائے گا۔

جہاں تک روس کی تیل کی پیداوار کا تعلق ہے سعودی وزیر توانائی نے کہا کہ اس معاملے پر بات ہوئی اور روس سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا کو واضح کرے تاکہ ماسکو کے ساتھ تیل کی پیداوار کے اعداد وشمار کے بارے میں شفافیت برقرار رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں