قاہرہ میں حماس اور اسلامی جہاد کا اجلاس، مفاہمت اور امن کے لیے ہم آہنگی پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی ذرائع نے حماس اور اسلامی جہاد تحریکوں کے رہ نماؤں کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی ملاقات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

ذرائع نے ‘العربیہ ڈاٹ نیٹ’ کو بتایا کہ حماس کے رہ نُماؤں نے قاہرہ میں اپنی قیام گاہ جہاد تحریک کے رہ نماؤں کا استقبال کیا جہاں انہوں نے فلسطینی عوام کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے، اتحاد، مفاہمت اور مفاہمت کے لیے اپنی توانائیاں مجتمع کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا اور مزاحمت اور فلسطینی عوام کے مختلف مسائل کی خدمت کے لیے اسے ترقی دینے کے طریقوں پرغور کیا گیا۔ اجلاس میں خطے میں ہونے والی پیشرفت اور فلسطینی قوم کے نصب العین کے حصول اور اس کے لیے مصری حکومت اور مصری قوم کے کردار پر بھی غور کیا گیا۔

اس کے علاوہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں مزاحمتی جماعتوں کے وفود مصری انٹیلی جنس حکام سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور پٹی میں حالات زندگی کو بہتر بنانے پر بات کریں گے۔

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہ نما غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی اشیا اور اجناس کی مقدار بڑھانے اور بجلی کی فراہمی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

تحقیقی پالیسی کے مسائل

حماس اور اسلامی جہاد کے دو وفود دو روز قبل قاہرہ پہنچے تھے۔ دونوں جماعتوں کے وفود کی آمد کا مقصد سیاسی امور اور جنگ بندی، مفاہمت اور مقبوضہ علاقوں میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

فلسطینی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں جماعتوں کے وفود کا یہ دورہ مصری قیادت کی جانب سے دی گئی سرکاری دعوت اور متعدد امورپر بات چیت کے لیے کیا گیا ہے۔

اسلامی جہاد موومنٹ کے ترجمان طارق السلمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کی جماعت مصری حکام سے غزہ کی پٹی کی صورت حال اور بالعموم فلسطین کی صورتحال سے متعلق امورں پر بات چیت کرے گی۔

مصرنے گذشتہ مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطینی جہاد تحریک کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس آپریشن میں اسلامی جہاد کی عسکری قیادت کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں