گریجویشن تقریب میں روتے والد اور لے پالک بیٹی کی جذباتی ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے شہر عسیر میں شاہ خالد یونیورسٹی کی تقریب کے دوران ایک روتی ہوئی طالبہ جب اپنے بزرگ والد کے گلے لگی تو اس جذبات سے معمور لمحے نے سینکڑوں سعودی شہریوں کے دل موہ لیے۔

یہ ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو بہت زیادہ توجہ حاصل ہوئی جس کی وجہ وہ دل چھو لینے والی کہانی ہے، جو 22 سال پرانی ہے۔

یہ روتی ہوئی طالبہ سمیرہ اور ان کے بزرگ والد سلطان ابو راس ہیں جنہوں نے 2001 میں سمیرہ کو اس وقت گود لیا جب اسے جنوبی سعودی عرب کے سرات عبیدہ گورنری کے ایک ہسپتال میں لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ جہاں سلطان ابو راس اس وقت کام کر رہے تھے۔

شیرخوار بچی کو گود لینے کی کہانی

انھوں نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان دنوں میں اسپتال میں نرسنگ کے شعبے کے سربراہ کے طور پر کام کرتا تھا۔

میری ذمہ داریوں میں مختلف یتیم بچوں کو وصول کرنا، ان کی دیکھ بھال، حفاظت اور رازداری کا خیال رکھنا بھی تھا"

ان بچوں میں شیر خوار سمیرہ بھی شامل تھی، جس کی پیدائش ہسپتال میں ہوئی لیکن اس کی والدہ نے اسے پیدائش کے بعد کسی وجہ سے قبول نہیں کیا۔

وجہ کا انکشاف نہیں کیا گیا

ابو راس نے کہا کہ "اسپتال کی نرسری میں 9 ماہ رکھنے کے بعد، شیرخوار بچی کی نفسیاتی حالت غیر مستحکم ہونے لگی۔ اس لیے میں اسے ساتھ کھیلنے اور باہر لے جانے کے لیے جلدی کام پر جانے لگا۔ لیکن جیسے ہی وہ نرسری واپس آتی دوبارہ مضطرب ہو جاتی۔"

سلطان ابو راس
سلطان ابو راس

انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ سمیرہ کی نفسیاتی حالت مستحکم ہونے تک تین ہفتوں تک اپنے گھر میں اپنی بیوی اور بچوں کے درمیان اس کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں۔

اس عرصے کے دوران بچی کی حالت میں کافی بہتری آئی تھی، لیکن وہ ہسپتال واپس آنے کے بعد دوبارہ بیمار ہو گئی۔
ان واقعات نے انہیں مجبور کیا اور انہوں نے اسے گود لینے کے کاغذات باضابطہ طور پر مجاز حکام کے پاس جمع کروا دیے۔

گود لینے کے بعد سمیرہ 22 سال تک سلطان ابو راس کے خاندان کے ساتھ رہی، یہاں تک کہ ایک سال قبل ، تعلیم مکمل ہونے سے ایک سال پہلے ، اس کی شادی ہوگئی۔

آرام اور رزق

سلطان کا کہنا ہے سمیرہ کے ان کے گھر آنے کے بعد وہ "آرام، سکون اور روزی کی فراوانی تھی جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھی تھی"۔

سمیرہ نے اپنے والد کے تئیں تشکر آمیز انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اچھے برتاؤ کی تعریف کرتے ہوئے العربیہ ڈاٹ کو بتایا کہ"میری گریجویشن کی تقریب ایک خواب تھا جو میرے والد اور میرے خاندان کی موجودگی میں مکمل ہوا۔

وہ سب میرے ساتھ کھڑے رہے اور ہمیشہ میری حمایت کی۔

"سر اٹھا کے جیو"

سمیرہ نے کہا کہ میں ایک ایسے خاندان میں رہتی تھی جس نے مجھ میں اور باقی بہن بھائیوں کے درمیان کسی فرق کے بغیر مجھے تمام پیار اور تعاون دیا۔

میں کچھ بھی کہوں، میں ان کا حق ادا نہیں کر سکتی۔

گریجویشن تقریب کے موقع پر والد کے گلے لگ کے رونے کے لمحے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سمیرہ نے کہا کہ
"خدا کا شکر ہے جس نے مجھے اس خاندان سے نوازا۔

میرے والد مجھ سے کہتے تھے، لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کرو، سر اٹھا کے جیو، میں تمہارے پیچھے کھڑا ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں