مغربی کنارے میں ایک آباد کار کو قتل کرنے والے فلسطینی کو عمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مغربی کنارے میں فلسطینی شہری اسرائیلی وزارت دفاع اور فوجی عدالتوں کی سول انتظامیہ کے تابع ہیں۔ اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے مغربی کنارے میں ایک آباد کار کو قتل کرنے اور تحریک حماس کے لیے ایک فوجی سیل قائم کرنے کے جرم میں ایک فلسطینی کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں پیر کو کہا گیا کہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے قریب واقع عوفر ملٹری کورٹ نے کل اتوار کو سلواد قصبے سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ معاذ حامد کو سزا سنائی۔ معاذ کو فائرنگ حملے اور اسرائیلی آباد کار کی موت کا سبب بننے پر دو مرتبہ عمر قید اور مقتول اور متاثرین کے لواحقین کو 19 لاکھ شکیل معاوضہ ادا کرنے کی سزا سنائی گئی۔ یہ رقم 2 لاکھ 91 ہزار ڈالر کے مساوی بنتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق 29 جون 2015 کو معاذ حمید کی فائرنگ کے حملے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع کوخاو ھشحار بستی میں رہنے والے ملاچی روزن فیلڈ ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ یہ حملہ شمالی مغربی کنارے میں شفوت ریچل بستی کے قریب ایک چوراہے پر کیا گیا تھا۔

عدالت نے حامد کو غزہ کی پٹی پر کنٹرول کرنے والی تحریک حماس کے لیے ایک فوجی سیل قائم کرنے کا مجرم بھی قرار دیا۔

فلسطینی قیدیوں کے کلب نے رد عمل میں معاذ حامد کے مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ معاذ کو اپریل 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا اور فوجی آپریشن کے پس منظر میں اس کا سات سال تک تعاقب کیا گیا تھا۔ مجرم کا ایک بھائی نعمان حامد ہے جسے گزشتہ سال فروری سے انتظامی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ ان دونوں کو بار بار گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں