ایران میں لازمی حجاب سے متعلق نئے بل پر قدامت پسندوں کو کیا اعتراض ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں حجاب پہننے سے متعلق ایک مسودہ قانون نے طاقت ور اداروں کے درمیان ایک شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ ایران کے قدامت پسند حلقوں نے سرنہ ڈھانپنے والی خواتین کی بڑھتی تعداد پر غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف انہوں نے حجاب سے متعلق نئے بل کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سنہ 1979 میں ایران میں انقلاب کی فتح کے بعد سے ایرانی قانون کے تحت تمام خواتین کو عوامی طور پر حجاب پہننے کا پابند کیا گیا تھا، لیکن سرنہ ڈھانپنے والی ایرانی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس رحجان میں پچھلے سال اس وقت اضافہ ہوا جب مہسا امینی نامی ایک لڑکی کو حجاب کے قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا جہاں دوران حراست اس کی موقت واقع ہوگئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ایران میں حجاب کے سخت قوانین کے خلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوگئے۔

قدامت پسند جو فی الحال ایران میں حکومت کے مختلف اداروں میں غلبہ رکھتے ہیں لازمی پردے کا دفاع کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر خواتین کے پردے کے معاملے میں نرمی برتی گئی تو اس سے "معاشرتی اصولوں" میں تبدیلی کا ایک گہرا عمل شروع ہوگا۔

جرم سے لے کر بدکاری تک

اس تناظر میں عدلیہ اور حکومت نے گذشتہ مئی میں "معاشرتی تحفظ اور خاندانی زندگی کو مضبوط بنانے کے لیے" عفت اور حجاب کی ثقافت کی حمایت" کے عنوان سے ایک مسودہ قانون تجویز کیا تھا۔

یہ مسودہ قانون میں حجاب کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو سخت مالی جرمانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ خاص طور پر کسی بھی ایسی عورت کے لیے جو" پبلک مقامات یا انٹرنیٹ پر اپنا نقاب ہٹاتی ہے" اسے بھاری جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ماہر سماجیات عباس عبدی نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "اس بل میں سر سے اسکارف ہٹانے کو جرم سے بدکاری کی کیٹیگری میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جیسا کہ ٹریفک کی خلاف ورزی کا ارتکاب پر کیا جاتا ہے لیکن اس کی سزا بھاری جرمانہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہسا امینی کی موت کے بعد سے "معاشرہ اب بات کو قبول نہیں کرتا کسی عورت کو حجاب کی خلاف ورزی پر پابند سلاسل کردیا جائے"۔

حالیہ مہینوں میں حکام نے کاروباری مراکز خاص طور پر ریستوراں بند کرنے سے لے کر سڑکوں پر کیمروں کی تنصیب تک حجاب کی خلاف ورزی پر خواتین خواتین کا تعاقب کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران میں تین عہدیداروں کو اس لیے برطرف کیا گیا کہ وہ خواتین کو حجاب کی پابندی کرانے میں ناکام رہے تھے۔

ناکافی

سرکاری میڈیا پر شائع ہونے والے مسودہ قانون کے متن میں کہا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سب سے پہلے پولیس کی جانب سے انتباہی ٹیکسٹ میسج موصول ہوگا۔ بار بار خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ان پر 500,000 سے 6 ملین تومان (10 سے 130 ڈالر) تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ ایرانیوں کے لیے یہ بہت بڑی رقم ہے۔

اس میں سماجی حقوق سے محرومی اور خلاف ورزی کرنے والی خواتین ڈرائیوروں کی گاڑی کو 10 دن کی مدت کے لیے ضبط کیا جانا بھی شامل ہے۔

ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی نے مسودہ قانون کے متن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک متوازن مسودہ ہے۔ انہوں نے معاشرے میں پولرائزیشن نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ "اہل ایمان کے تحفظات" کو سمجھتے ہیں جنہوں نے حجاب پہننے کے احترام کی کمی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

پارلیمان میں بحث کے لیے پیش کردہ اس بل نے موجودہ پارلیمان میں سرگرم انتہائی قدامت پسندوں کو ناراض کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ " موثر قانون نہیں" ہے۔

ریاستی پالیسی کے حامی"کیہان" اخبار نےبھی اس مسودہ قانون پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ نقاب نہ پہننے والی خواتین کے سامنے "قانونی رکاوٹوں کو ہٹا کر" "ایک مکروہ رجحان کے پھیلاؤ" کی حوصلہ افزائی ہوگی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں