لے پالک بیٹی 20 سال سے ہمارے لیے مسرتوں کا باعث ہے:بزرگ سعودی کے تاثرات

سوشل میڈیا پر وائرل سلطان القحطانی اور ان کی لے پالک بیٹی سمیرہ کی العربیہ کے پروگرام میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوشل میڈیا پر ایک سعودی باپ کی گود لی بیٹی کی گریجویشن پرخوشی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد منہ بولے باپ اور اس کی بیٹی نے ’العربیہ‘ ٹی وی چینل کے مارننگ شو"صباح العربیہ" میں گفتگو کی۔ دونوں نے ٹی وی پروگرام میں اپنی کہانی اور گریجویشن پر اپنی خوشی کے بارے میں بات کی۔

بزرگ سعودی شہری سلطان القحطانی نے "صباح العربیہ" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا بیٹی کی گریجویشن پر میری خوشی ناقابل بیان تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ میرا کا محض یہ خیال تھا کہ وہ گریجویشن کے وقت خاندان کے بغیر اکیلی ہوگی۔ یہ سوچ کر میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ گریجوایشن کے وقت اس کا خاندان موجود تھا۔

انہوں نےکہا کہ بیٹی کو گود لینا ان کے لیے برکت کا باعث بنا اور اس کے گود لینے کے بعد سے وہ گھر میں خوشیاں لے کر آئی۔ وہ ان کے باقی بچوں کی طرح ہے۔ گھر میں میری لے پالک بیٹی سمیرہ کی موجودگی نے مجھے 20 سال تک خوشیاں دی ہیں۔

گود لی گئی لڑکی سمیرہ نے بھی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس خاندان میں بہت خوش ہیں۔

سعودی عرب کے شہر عسیر میں شاہ خالد یونیورسٹی کی تقریب کے دوران ایک روتی ہوئی طالبہ جب اپنے بزرگ والد کے گلے لگی تو اس جذبات سے معمور لمحے نے سینکڑوں سعودی شہریوں کے دل موہ لیے۔

یہ ویڈیو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو بہت زیادہ توجہ حاصل ہوئی جس کی وجہ وہ دل چھو لینے والی کہانی ہے، جو 22 سال پرانی ہے۔

یہ روتی ہوئی طالبہ سمیرہ اور ان کے بزرگ والد سلطان ابو راس ہیں جنہوں نے 2001 میں سمیرہ کو اس وقت گود لیا جب اسے جنوبی سعودی عرب کے سرات عبیدہ گورنری کے ایک ہسپتال میں لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ جہاں سلطان ابو راس اس وقت کام کر رہے تھے۔

بچی ہسپتال میں اکیلی تھی

انھوں نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان دنوں میں اسپتال میں نرسنگ کے شعبے کے سربراہ کے طور پر کام کرتا تھا۔

میری ذمہ داریوں میں مختلف یتیم بچوں کو وصول کرنا ان کی دیکھ بھال، حفاظت اور رازداری کا خیال رکھنا بھی تھا"۔

ان بچوں میں شیر خوار سمیرہ بھی شامل تھی، جس کی پیدائش ہسپتال میں ہوئی لیکن اس کی والدہ نے اسے پیدائش کے بعد کسی وجہ سے قبول نہیں کیا۔

ابو راس نے کہا کہ "ہسپتال کی نرسری میں 9 ماہ رکھنے کے بعد، شیرخوار بچی کی نفسیاتی حالت غیر مستحکم ہونے لگی۔ اس لیے میں اسے ساتھ کھیلنے اور باہر لے جانے کے لیے جلدی کام پر جانے لگا لیکن جیسے ہی وہ نرسری واپس آتی دوبارہ مضطرب ہو جاتی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں