اسرائیل میں 14 جون کی پارلیمانی ووٹنگ عدالتی منصوبے کی قسمت بھی بتائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کی کنیسٹ (پارلیمنٹ) اگلے ہفتے ایک ووٹنگ کرنے جا رہی ہے۔ یہ ووٹنگ جو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کی سخت گیر حکومت کی سپریم کورٹ کو روکنے کی مہم کے خلاف فیصلہ کن عنصر بن سکتی ہے۔ یاد رہے نیتن یاھو حکومت کے عدالتی منصوبے نے برسوں میں پہلی مرتبہ ملک میں بدترین سیاسی بحران پیدا کردیا ہے۔

پارلیمنٹ 14 جون کو ججوں کو سلیکٹ کرنے والے ایک پینل میں شامل ہونے کے لیے دو قانون سازوں کا انتخاب کرنے والی ہے۔ یہ پینل سپریم کورٹ کے ججوں کا بھی انتخاب کرتا ہے۔ یہ ووٹنگ اسرائیل کے سیاسی نظام میں چند چیک اینڈ بیلنس میں سے ایک ہے۔

قانون سازوں، سینئر ججوں، وزراء اور وکلا کے 9 رکنی پینل کا میک اپ اسرائیل کی جمہوریت کی نوعیت پر ایک جنگ کا مرکز رہا ہے ۔ یہ جنگ جنوری میں اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے عدلیہ کو تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے اعلان کے بعد اسرائیل بھر میں بڑے احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور مغربی طاقتوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی جمہوری صحت کے لیے ایسی عدالتی اصلاحات کا کیا مطلب ہے۔

اگر منتخب کردہ دو قانون سازوں میں سے ایک سابق روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حزب اختلاف سے ہوا تو یہ نیتن یاہو کی طرف سے اپنے مخالفین کے ساتھ ہفتوں کی بات چیت کے بعد سمجھوتہ کرنے کا نشان ہوگا۔ اس سے مذہبی قوم پرست حکومت کے سخت گیر عناصر کو ایک دھچکا لگے گا جو عدلیہ کی تقرریوں پر مزید کنٹرول چاہتے ہیں۔

اس کا اثر سپریم کورٹ پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ اس پینل کو آنے والے مہینوں میں چیف جسٹس اور دوسرے جج کو تبدیل کرنا ہوگا۔

حزب اختلاف کے سربراہ یائر لاپڈ نے آرمی ریڈیو کو بتایا ہے کہ کسی ایسے شخص کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی جس پر آپ کو بھروسہ نہیں ہے۔ یاد رہے انہوں نے اور دیگر قانون سازوں نے پچھلے ہفتے اشارہ کیا تھا کہ پینل کے امیدواروں کے بارے میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔ لیکن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے اپوزیشن کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ فیصلہ اگلے ہفتے کیا جائے گا۔

ناقدین نیتن یاہو کی طرف سے لائے گسے عدالتی منصوبے کی مذمت کرتے ہیں۔ نتین یاھو پر بدعنوانی کے الزامات پر مقدمہ چل رہا ہے جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں جانے سے سپریم کورٹ کے بہت سے ایسے فیصلوں کو ختم کیا جا سکتا ہے جو عدالتوں کی آزادی اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

عدالت اسرائیل کے سیاسی نظام میں ایک چیک کے طور پر کام کرتی ہے۔ اسرائیل میں پارلیمنٹ کا صرف ایک ایوان ہوتا ہے۔

اب تک بحران کو کم کرنے کے لیے حزب اختلاف کے ساتھ نیتن یاہو کی بات چیت کا فائدہ بہت کم سامنے آیا ہے۔ اس غیر یقینی کی صورتحال نے اسرائیلی معیشت اور شیکل کی قدر کو بھی متاثر کردیا ہے۔ واشنگٹن نے نتین یاھو پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی اصلاحات پر اتفاق رائے تک پہنچیں۔ پینل کے میک اپ کے لیے پینل میک اپ پر ووٹنگ اسرائیلیوں اور مغربی اتحادیوں کو بھی اس معاملے پر ایک وضاحت فراہم کردے گی ۔

اگر پارلیمنٹ خفیہ ووٹ میں حزب اختلاف کے رکن کا انتخاب کرتے ہوئے رواج کی پابندی کرتی ہے تو یہ مخالفین کے لیے اشارہ ہوگا کہ نیتن یاہو کسی سمجھوتے کے لیے سنجیدہ ہیں اور وہ اپنے عدالتی منصوبے کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نیتن یاہو نے 29 مئی کو لیکوڈ سے کہا تھا کہ عدلیہ اصلاحات ختم نہیں ہوئیں لیکن ہم بات چیت کے ذریعے وسیع معاہدوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

قانون ساز کیٹی شتریت جو حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے والی لیکوڈ ٹیم میں شامل ہیں نے کہا ہے کہ عدلیہ اصلاحات اپنی اصل شکل میں نہیں ہوں گی۔ وزیر اعظم نیتن یاھو کے دفتر کے ڈائریکٹر جنرل یوسی شیلی نے عدالتی بحث کے بارے میں سوالات کا جواب دیا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ بالآخر یہ معاملہ مثبت طور پر ختم ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں