ایران میں دفتری نظام الاوقات کی تبدیلی پر عوامی حلقے ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی حکومت کے سرکاری اور نیم سرکاری شعبوں میں موسم گرما کے دفتری اوقات کار میں رد وبدل کے فیصلے کو عوامی حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

چند روز قبل تہران حکومت نے موسم گرما کے لیے نیا دفتری نظام الاوقات جاری کیا تھا جس کے مطابق ملازمین کو دفتروں میں صبح چھ بجے حاضری لگانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے توانائی کی بچت میں مدد ملے گی۔

فیصلے پر عوام کا اظہار ناپسندیدگی

دوسری طرف عوامی حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ حکومت نے موسم گرما میں ملازمین اور مزدوروں کے اوقات کار میں تبدیلی کر کے ان دونوں طبقات کو مایوس کیا ہے۔

کئی دنوں کی تنقید کے بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے گذشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ "اس فیصلے کے اہداف اور نتائج کے بارے میں رائے عامہ کو قائل کرنا عوام کو اس کے نفاذ کے ساتھ رکھنے کے لیے ایک اہم اور مؤثر معاملہ ہے۔" انہوں نے حکومتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اوقات کار کی تبدیلی کے فیصلے کے بارے میں رائے عامہ کو مطمئن کریں۔

ہفتے کے آغاز سے ان دونوں شعبوں کے ملازمین کو صبح چھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سے پہلے انہیں محکموں کے لحاظ سے صبح سات یا آٹھ بجے کام شروع کرنا ہوتا تھا۔

دفتری اوقات کار میں تبدیلی جون اور جولائی کے ایام کے لیے ہے۔ اگست میں کاروباری اوقات معمول پر آ جائیں گے۔ حکومت نے موسم گرما کے دوران توانائی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے یہ متنازعہ فیصلہ کیا۔

گرمیوں کے دوران سرکاری محکموں میں بجلی کی کھپت ریکارڈ سطح پر پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ ملک میں دفاتر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایئر کنڈیشنرز کا بڑے پیمانے پر استعمال معمول کی بات ہے، خاص طور پر وہ علاقے جہاں گرمیوں میں دن کے وقت درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم صبح چھ بجے کام شروع کرنے کا وقت مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ ملازمین کو ڈیوٹی پر جانے کے لیے صبح چار یا پانچ بجے تیاری شروع کرنا ہو گی۔

ایک سرکاری ملازم مرتضیٰ نے کہا کہ اوقات کار کی تبدیلی سے ان والدین کے لیے مشکل پیدا ہو گی جنہیں اپنے بچوں کو پرائمری اسکول یا کنڈر گارٹن لے جانا پڑتا ہے۔ ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’دو دن سے ہم اس نئے نظام الاوقات کو اپنانے کے لیے تکلیف اٹھا رہے ہیں۔"

کام کے نئے اوقات دیگر شعبوں کے ساتھ بھی متصادم ہیں۔ تہران سب وے کے ذریعے آمد ورفت صبح 4:30 بجے شروع ہوتی ہے، جبکہ نجی ٹرانسپورٹ صبح 5:30 بجے چلنا شروع ہوتی ہے۔

تہران میں چیمبر آف کامرس کے سکریٹری جنرل بہمان اشغی نے "سازندکی" اخبار کو بتایا کہ "بینک اب دوپہر ایک بجے بند ہو رہے ہیں۔ یہ وقت عموماً میرے کام کے عروج کا وقت ہوتا ہے۔ مجھے مالیاتی لین دین اگلے دن تک ملتوی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔"

یاد رہے ایران میں جون کے مہینے میں صبح 4:30 بجے سے صبح 5:00 بجے کے درمیان نماز فجر کا وقت ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں