’’یہ میری زندگی کی قیمتی ترین چیز ہے‘‘: سعودی خاتون کا بیٹی گود لے کر اظہار خوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں ایک خاتون نے کیئر ہوم سے ایک یتیم بچے کو گود لے لیا اور اس پر اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سعودی ماں نے کہا کہ بچوں سے محبت اور بے اولادی نے مجھے ایک بچہ گود لینے پر آمادہ کیا۔

سعودی علاقہ الشرقیہ کی خاتون ناہد الخیبری نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ "یتیم لڑکی کو گلے لگانے کا خیال کئی سالوں سے موجود تھا لیکن اس قدم کو اٹھانے میں شادی نہ ہونا میرے لیے واحد رکاوٹ تھی۔ یہ کسی بھی سعودی ایسوسی ایشن سے یتیم کو گلے لگانے کے لیے سب سے اہم شرائط میں سے ایک ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ میری شادی کے بعد کئی سال تک میرے ہاں اولاد نہیں ہوئی اور بچوں کے لیے میری بے پناہ محبت کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے شوہر کو اپنی خواہش بتائی۔ وہ براہ راست راضی ہو گئے اور میری مکمل حمایت کی۔

چنانچہ میں نے الوداد ایسوسی ایشن کو ایک چھوٹی بچی کو گلے لگانے کی باضابطہ درخواست جمع کرائی اور تمام شرائط پر عمل درآمد کے بعد میں نے حتمی فیصلے کا انتظار کیا۔ یہ عرصہ میری زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ درخواست جمع کرانے کے چند دن بعد انجمن کی جانب سے دوپہر 2 بجے مجھے کال موصول ہوئی، جس میں مکہ مکرمہ سے ایک لڑکی کو گود لینے پر رضامندی کی خوشخبری سنائی گئی۔

ان لمحات کے بارے میں ناہد نے کہا کہ "میری زبان اس خوشی کو بیان نہیں کر سکتی جس نے مجھے اور میرے شوہر کو مغلوب کردیا تھا۔ ہم نے اپنی نئی بیٹی کی اپنے گھر آمد پر بہت خوشی محسوس کی۔

خاتون نے وضاحت کی کہ میں اور میرے شوہر نومولود ’’نوف‘‘ کو لینے کے لیے الشرقیہ شہر سے مکہ مکرمہ کی جانب چلے گئے۔ جب میں پہلی مرتبہ اس سے ملی اور اسے گلے لگایا تو خوشی اور مسرت کے آنسو مجھ پر چھا گئے۔ ناہد نے کہا کہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ ہمارے درمیان اس کی موجودگی سے مختلف تھا۔

ناہد الخیبری نے عزم کا اظہار کیا کہ جب تک میں اپنی لے پالک بیٹی ’’ نوف‘‘ کو اعلی ترین عہدوں تک پہنچتا نہ دیکھ لوں اس کی دیکھ بھال کروں گی۔ انہوں نے کہا یہ میری زندگی کی سب سے قیمتی اور خوبصورت چیز ہے۔

دریں اثنا الوداد خیراتی انجمن برائے یتیم کی دیکھ بھال کے سی ای او ڈاکٹر ضعیف اللہ بن احمد النامی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو وضاحت کی کہ انجمن ایسے یتیم بچوں کی دیکھ بھال کے اپنے مشن کو حاصل کرنے کی خواہشمند ہے جو دو سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے دیکھ بھال سے محروم ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو قانونی طور پر دودھ پلانے کے ذریعے اہل خاندانوں کو تفویض کردیا جاتا ہے۔ ایک یونٹ قائم ہے جو خاندانوں کو سپرد کرنے کے بعد بھی ان بچوں کے معاملات کو دیکھتا رہتا ہے۔

خیراتی انجمن نے واضح کیا کہ انکیوبیشن کے لیے درخواستیں سائنسی معیار کے مطابق زیر مطالعہ ہوتی ہیں۔ اس معیار کی بنیاد پر معاشی، سماجی اور تعلیمی لحاظ سے سب سے موزوں خاندان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ بچوں کو تفویض کرنے کی سب سے اہم شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ خاندان یعنی شوہر اور بیوی دونوں سعودی شہری ہوں اور بیوی کی عمر پچاس سال سے زیادہ نہ ہو۔ اور یہ کہ وہ حسن سلوک اور اخلاق کی شرط پوری کرتی ہو۔ اسی طرح دونوں میاں بیوی جنیاتی بیماریوں سے بھی محفوظ ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں