سعودی یوگا ٹیم نے نیپال میں 5 تمغے جیت لیے

سعودی یوگا کمیٹی کے چیئرمین نوف المروعی نے اس بے مثال کامیابی پر ٹیم کا شکریہ ادا کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک تاریخی کامیابی میں سعودی یوگا ٹیم نے دوسری ایورسٹ انٹرنیشنل سپورٹس یوگا چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل، 3 سلور میڈل اور ایک کانسی کے تمغے سمیت 5 تمغے جیت لئے۔ سماہر المالکی نے گولڈ میڈل جیتا۔ بدر الغامدی، احمد شیلاتی اور سارہ عامودی نے تین چاندی کے تمغے جیتے اور جود عابد نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کرلیا۔

سعودی کھیلوں کے لیے یہ عظیم کارنامہ 8 سے 10 جون تک جمہوریہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی چیمپئن شپ کے مقابلوں کے دوران سامنے آیا۔ اس مقابلے کا انعقاد انٹرنیشنل فیڈریشن آف یوگا ’’اسانا‘‘ نے نیپالی وزارت کھیل اور نوجوانوں کی یوگا ایسوسی ایشن اور نیپالی قومی کونسل برائے کھیل کے تعاون سے کیا تھا۔

سعودی یوگا کمیٹی کے چیئرمین نوف المروعی نے اس بے مثال کامیابی پر سعودی یوگا ٹیم کے ان چیمپئنز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حالیہ شرکت کے باوجود علاقائی اور عالمی سطح پر یوگا کی مشق میں سعودی عرب کی قیادت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی چیمپئن شپ میں سعودی یوگا ٹیم کی یہ پہلی شرکت تھی لیکن یوگا ٹیم کے چیمپئنز 5 تمغے جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس بڑی سطح کے مقابلے میں اتنی بڑی تعداد کا تمغے جیتنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

ٹورنامنٹ کے فاتحین میں سے ایک
ٹورنامنٹ کے فاتحین میں سے ایک

نوف المروعی نے مزید کہا وہ اس عالمی کامیابی کو مملکت کی دانش مند قیادت کے نام کرتے ہیں۔ ان کی بھرپور حمایت کی بدولت ہی سعودی قومی ٹیم کے چیمپئنز نے نہ صرف انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں شرکت کی بلکہ اس قدر بڑی تعداد میں مملکت کے لیے انعامات بھی جیت لیے۔

المروعی نے سعودی یوگا ٹیم اور ٹیم کے تمام کھلاڑیوں پر فخر کا اظہار کیا اور کہا ہمیں اپنی ٹیم سے مزید گولڈ میڈل اور بین الاقوامی مقابلے جیتنے کی امید ہے۔ یہ ان سٹریٹجک اہداف میں سے ایک ہے جسے سعودی یوگا کمیٹی حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی ٹیم کی جانب سے حاصل کی گئی فتح ٹیم کی مہارت اور ٹورنامنٹ سے قبل اچھی تیاری کا نتیجہ ہے۔ سعودی یوگا کمیٹی نے نیپالی دارالحکومت میں ایک ہفتہ تک تربیتی کیمپ منعقد کیا جس کی نگرانی میں یوگا کے خصوصی عملہ نے کھلاڑیوں کی تربیت کی۔ ان ماہرین میں بھارتی بین الاقوامی کوچ وجے یادیو بھی شامل تھے۔ اسی طرح 50 سے زائد بین الاقوامی چیمپئن شپس کے فاتح اور بہت سے طلائی تمغوں کے فاتح اور ماہر کمیٹی کے تکنیکی مشیر گیٹن تومر نے بھی اپنی خدمات پیش کی تھیں۔ واضح رہے سعودی عرب کی طرف سے چھ کھلاڑیوں نے عالمی مقابلے میں حصہ لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں