45 برس کے قانونی تنازع کے بعد فلسطینی خاندان کو بے دخل کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین میں مشرقی القدس میں 45 سال کے قانونی تنازع کے بعد صہیونی عدلیہ نے فلسطینی خاندان کو بے دخل کرنے کا حکم سنا دیا۔ فلسطینی جوڑے نورا اور مصطفیٰ نے 1978 سے ایک مقدمہ میں اپنے گھر کے حوالے سے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ عدالت نے انہیں یہودی آباد کاروں کے حق میں اپنا گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ گھر مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر کے مسلم کوارٹرز میں واقع ہے اور اس میں مداخلت کا سلسلہ اگلے اتوار سے شروع ہو گا جس کے بعد اسرائیلی پولیس کئی دہائیوں کی قانونی لڑائی کے بعد گھر میں داخل ہو کر انہیں باہر نکال سکے گی۔

نورا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان دنوں میں ایک قیدی کی طرح ہوں جو پھانسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب وہ آپ کو آپ کے گھر سے باہر لے جائیں گے تو یہ سزائے موت ہوگی۔ میں دوسرے لوگوں کی طرح نہیں سوتی، میری زندگی مشکل میں ہے۔

یہ خاندان 45 سال سے اسرائیلی حکام اور آباد کاروں کے ساتھ قانونی تنازعہ میں الجھا ہوا ہے۔

خاندان اور اسرائیلی اینٹی سیٹلمنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق آباد کاروں کی اس مقدمہ میں نمائندگی عطيرت ليوشنا نامی تنظیم ایک ایلی اٹل نامی شخص کے ذریعہ سے کر رہی ہے۔ ایلی اٹل نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

آباد کاروں کا کہنا ہے کہ یہودی 1948 میں ریاست اسرائیل کے قیام سے قبل اس پراپرٹی میں رہائش پذیر تھے اور بعد میں اردن نے مشرقی القدس کا انتظام سنبھال لیا تھا۔یہودی اس جائیداد پر اپنے دعوے کی بنیاد ستر کی دہائی کے اسرائیلی قانون پر رکھتے ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی خاندان کا کہنا ہے کہ اردن کے دور میں 1950 کی دہائی میں وہ بطور "محفوظ کرایہ دار" کے یہاں مقیم تھے۔ واضح رہے اسرائیل نے 1967 سے مشرقی القدس اور مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

نورا کہتی ہیں کہ یہ ہمارا گھر ہے اور یہاں ہم آزادی یا تحفظ کے بغیر رہتے ہیں۔

اپارٹمنٹ کے اندر خاندان نے دیواروں پر لٹکی ہوئی تصاویر کو نیچے اتار دیا ہے کیونکہ خاندان کے افراد کو معلوم ہے کہ اسرائیلی پولیس کے اندر گھسنے کے موقع پر ان کے پاس اپنی ضروریات کی چیزیں رکھنے کا وقت نہیں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں