اسرائیل: جرائم کیخلاف ناکامی پر بین گویر کو برطرف کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل میں منظم جرائم بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی برطرفی کا مطالبہ بھی شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ صہیونی ریاست میں منظم جرائم کا نشانہ بنننے والوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا ہوکر 130 تک پہنچ گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں 28 یہودیوں اور 102 عرب شامل ہیں۔

اسرائیل میں منظم جرائم کے بڑھنے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا
اسرائیل میں منظم جرائم کے بڑھنے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا
Advertisement

متحدہ عرب فہرست کے سربراہ منصور عباس نے خود وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔ گزشتہ حکومت میں عرب سوسائٹی میں جرائم سے نمٹنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کام کرنے والے منصور عباس نے اتوار کو کہا کہ تجربہ اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ اگر حکومت میں حقیقی ارادہ ہو اور علاج میں پیشہ ورانہ مہارت ہو تو جرائم کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن بین گویر نے ثابت کیا ہے کہ وہ انتظام میں کچھ نہیں سمجھتے۔ وہ عربوں کی سب سے بڑی تعداد سے چھٹکارا پانے کے حوالے سے نظریاتی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے نیتن یاھو اور بن گویر دونوں کو اپنی ناکامی کی قیمت چکانی ہوگی۔

منصور عباس نے نیتن یاہو اور بین گویر کے بیانات کا حوالہ دیا۔ ان بیانات میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ پولیس کی تحقیقات میں جنرل انٹیلی جنس سروس (شن بیٹ) کو شامل کرنے کے لیے قانونی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

منصور نے کہا کہ یہ ایک جھوٹی دلیل ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شن بیٹ پہلے سے موجود ہے اور وہ جب چاہے مداخلت کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پولیس کی اپنی خفیہ انٹیلی جنس سروسز ہیں اور وہ شن بیٹ کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون سے کام کرتی ہے۔ تیسرا مسئلہ سیاسی ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی پالیسی کا تقاضا ہے کہ عرب معاشرے میں افراتفری پھیلا کر توجہ قومی مسائل سے ہٹائی جائے۔

نیتن یاہو نے اتوار کو حکومتی اجلاس شروع کیا اور اس میں کہا کہ وہ عرب کمیونٹی میں جرائم کے خلاف لڑائی میں شن بیٹ کی شمولیت پر متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف 6 سابق پولیس انسپکٹرز اور کپتان کے عہدے کے 42 ریٹائرڈ افسران نے نیتن یاہو کو لکھے گئے ایک واضح خط میں وزیر بین گویر کی برطرفی اور ان کی دوسری وزارت میں منتقلی کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ وہ متوقع طور پر اسرائیلی پولیس کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔

خط میں کہا یا کہ وزیر بن گویر حل نہیں ہیں بلکہ مسئلے کا مرکزی حصہ ہیں۔ بن گویر کو فوری طور پر وزارت قومی سلامتی سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

دریں اثنا بین گویر نے پولیس کمانڈ کے ساتھ ایک نئی جھڑپ شروع کر دی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کی قیادت خود اپنے ارکان کے ذریعہ سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔

پولیس نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ایک سرکاری بیان جاری کیا۔ پولیس کی طرف سے جوابی بیان میں کہا گیا کہ "سوشل نیٹ ورکس پر آخری گھنٹوں میں پھیلنے والی اشاعتوں کے تسلسل میں ہزاروں ٹویٹس شامل ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کی تفصیلات اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کی جانچ پڑتال سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ یہ کسی غیر ملک کی طرف سے لڑائی پیدا کرنے کے مقصد سے چلائی گئی مہم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں