لبنانی پارلیمان مسلسل 12 ویں بار صدر کے انتخاب میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی پارلیمنٹ مسلسل 12 ویں مرتبہ صدر کے انتخاب میں ناکام رہی۔ حزب اللہ کے حمایت یافتہ امیدوار سلیمان فرنجیہ اور ان کے مد مقابل سابق وزیر خزانہ جہاد ازعور کو ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں فتح حاصل کرنے کے لئے مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں ہوئے۔

سپیکر نبیہ بری کی جانب سے بلائے جانے والے اجلاس میں تمام 128 ارکان پارلیمان نے شرکت کی مگر پھر بھی کوئی امیدوار واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

ووٹنگ کے دوران جہاد ازعور نے 59 اور سلیمان فرنجیہ نے 51 ووٹ حاصل کئے۔

اس کے بعد ووٹنگ کے دوسرے دور سے قبل حزب اللہ اور اس کی اتحادی امل پارٹی کے ارکان نے واک آئوٹ کر دیا جس کے سبب کورم پورا نہ ہونے کے سبب پارلیمانی انتخاب ملتوی کرنا پڑا۔

لبنان میں اس وقت اقتدار کا مکمل خلا ہے۔ وہاں نہ تو سربراہ مملکت ہے اور نہ ہی مکمل طور پر بااختیار کابینہ۔یہ ملک کی تاریخ کا بھی منفرد واقعہ ہے کہ کوئی منتخب یا مینڈیٹ کی حامل قانونی حکومت نہیں ہے۔

لبنان میں صدارت کا عہدہ ایک مارونی عیسائی کے لیے مخصوص ہے اور ملک کی دو سب سے بڑی مسیحی جماعتیں اَزعور کی حمایت میں ہیں، جبکہ شیعہ حزب اللہ اور اس کی اتحادی امل تحریک ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔

حزب اللہ طویل عرصے سے لبنان کا سب سے مضبوط دھڑا رہی ہے اور وہ اپنی طاقت کو اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس میں 2020 میں بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کو دفن کرنے میں مدد کرنا بھی شامل ہے۔

لیکن پارلیمنٹ میں اس کا اثر و رسوخ نہیں۔اس کی 128 نشستیں عیسائی اور مسلم گروہوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہیں۔گذشتہ سال حزب اللہ کو اس وقت دھچکا لگا جب گروپ اور اس کے اتحادیوں نے اکثریت کھو دی۔امریکا اسے ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں